BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 January, 2007, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کی نئی پالیسی پر عالمی ردعمل
امریکی فوج
عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا بعض ممالک نے خیرمقدم کیااور بعض نے نکتہ چینی کی ہے
امریکی صدر جارج بش کی عراق کے متعلق نئی پالیسیوں پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ڈیموکریٹِک پارٹی نے عراق میں صدر بش کی نئی حکمت علی پر نکتہ چینی کی ہے۔ لیکن برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان جیسے امریکہ کے اتحادی ممالک نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔


سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ حالیہ انتخاب میں امریکی عوام نے بش انتظامیہ کی عراق پالیسی میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

انہوں نے عراق میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کو عوامی رائے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا کہ عراقی جنگ میں شدت لانے کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ کے خلاف قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر بش کا عراق میں مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ فوجی کمانڈروں کے مشورے کےخلاف کیا ہے۔

برطانیہ نے صدر بش کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طر ف جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بغداد میں سیکیورٹی کے حالات بہت خراب ہیں اور صدر بش کے تازہ اقدامات سے حلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

’صدر بش کے اعلانات اور وزیراعظم نوری المالکی کی انکی حمایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دونوں ہی بغداد کے مشکل ترین حالات پر قابو پانے کے لیے پر عزم ہیں۔‘

آسٹریلیا کے وزیراعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بش کے منصوبوں کی حمایت کرتی ہے۔’ ان کا خطاب واضح، پر سکون اور حقیقت پر مبنی تھا، انہوں نے چیلنج سے چشم پوشی نہیں کی اور خطرات سے آگاہ کیا۔ عراق میں امریکہ کی شکست سے دہشت گردی میں زبردست اضافہ ہوگا۔

 یہ ٹکراؤ، چیلنج اور دوسروں پر الزام تراشی کی پالیسی ہے اور یہ سب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ عراق میں ناکام ہوگئے ہیں، دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کی حیثیت سے انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں تسلیم نہیں کر سکتے۔ بش کو ذرا سنجیدگی سے زمینی حقائق کو دیکھنا چاہیے۔
سیریا کے رکن پارلیمان جارج جبور

جاپان کی حکومت نے بھی صدر بش کی یہ کہہ کر ستائش کی ہے کہ یہ عراق کو مستحکم کرنے کی امریکہ کی ایک اور کوشش ہے۔

چین نے کہا ہے کہ عراق میں امن اور استحکام تبھی ممکن ہے جب خود وہاں کے عوام کی حکومت ہو۔’جمہوریت، امن اور اقتصادی ترقی سے ہی اس کا بھلا ہوسکتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ عراق میں حالات جلد بہتر ہوجائیں اور وہاں امن ہو۔‘

سیریا نے صدر بش کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ پارلیمنٹ کے رکن جارج جبور کے مطابق امریکی صدر نے وہی ناکام منصوبہ پھر دہرایا ہے اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔

’یہ ٹکراؤ، چیلنج اور دوسروں پر الزام تراشی کی پالیسی ہے اور یہ سب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ عراق میں ناکام ہوگئے ہیں، دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کی حیثیت سے انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں تسلیم نہیں کر سکتے۔ بش کو ذرا سنجیدگی سے زمینی حقائق کو دیکھنا چاہیے۔‘

عراق پر سٹڈی گروپ کے ایک رکن اور ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے سربراہ جیمز کرفانو نے کہا ہے کہ صدر بش کے خطاب میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے در پیش مسائل کاخاطر خواہ ذکر نہیں کیا ہے۔

’یہ حکمت عملی خطرات سے اس لیے پر ہے کہ اس میں امریکی فوج کے متعلق بہت کم باتیں ہیں اور عراقیوں کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد