عراق میں امریکی فوج میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق میں مزید بیس ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی عوام سے براہ راست خطاب میں امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ اس فوجی کمک سے عراق میں جاری تشدد پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور اس طرح امریکی فوجیوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوگا۔ صدر بش نے کہا کہ عراق کی موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے عراق میں غلطیوں کی ذمہ داری قبول کی۔ عراق میں مزید عراقی فوجیوں کی تعیناتی سے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ ہو جائے گی۔ صدر بش نے کہا کہ عراق میں ناکامی کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ عراق میں امریکی ناکامی سے اسلامی شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ تیل کے ذرائع پر قابض ہو کر عالمی امن اور بالخصوص امریکیوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ عراق میں مزید فوجی بھیجنے کے باوجود وہاں تشدد کی کارروائیوں میں فوری کمی کے امکانات کم ہیں اور اور امریکی عوام کو مزید فوجیوں کی ہلاکتوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ صدر بش نے تسلیم کیا کہ 2006 میں عراق کی صورتحال خراب ہوئی اور 2003 کے بعد عراق میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کے اثرات زائل ہوگئے۔ امریکی صدر نے کہا 2006 میں اسلامی شدت پسند ملک میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے میں کامیاب رہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے اب امریکی فوج کے سیکورٹی آپریشن کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ناکامی فوجیوں کی کمی کی وجہ سے ہوئی۔ صدر بش نے کہا کہ القاعدہ صوبہ انبار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی لیکن اب مقامی قبائلی لیڈر القاعدہ کے خلاف مزاحمت کرنے پر رضامند ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ ان کے کمانڈروں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ امریکی فوج مزاحمت کاروں کو شکست دے سکتی ہے۔ امریکی صدر نے عراقی حکومت کو بھی خبردار کیا کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر عراق کی حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو وہ امریکی تعاون سے محروم ہوجائے گی۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی نےصدر جارج بش کی عراق پالیسی کو رد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عراق سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ ڈیموکریٹِک پارٹی کی ترجمانی کرتے ہوئے سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ حالیہ انتخاب میں امریکی عوام نے بش انتظامیہ کی عراق پالیسی میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ عراقی جنگ میں شدت لانے کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر نے کہا کہ صدر بش نے عراق میں فوجی کمک بھیجنے کا فیصلہ فوجی کمانڈروں کی مشاورت کےخلاف کیا ہے۔ ڈیموکریٹِک پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ عراق کو اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ امریکہ عراق جنگ میں اب تک 400 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے اور اس کے تین ہزار فوجی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||