عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے صدر جارج بش سے کہا ہے کہ وہ عراق میں تعینات فوج کی تعداد بڑھانے کی بجائے اس کے مرحلہ وار انخلاء پر توجہ دیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے حال ہی میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں پچھلے بارہ سال کے دوران پہلی مرتبہ امریکی کانگریس کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر بش پر اس وقت دباؤ بڑھانا شروع کیا ہے جب وہ عنقریب عراق میں اپنی ’نئی‘ حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت صدر بش بغداد اور اس کے گردونواح میں متحرک عراقی ہتھیار بندوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے دس سے بیس ہزار مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن صدر بش کو لکھے گئے ایک خط میں سینٹ میں ڈیموکریٹ رہنماء ہیری ریڈ اور ایوان نمائندگان کی نو منتخب سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ عراق میں مزید فوجی بھیجنے کا مطلب امریکی فوج کو بغیر کسی فائدے کے فتح اور شکست کے دوراہے پر لا کھڑا کرنا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے خط میں صدر بش کو تجویز دی ہے کہ مزید فوج بھیجنے کی بجائے چار سے چھ ماہ کے دوران عراق سے فوجی انخلاء شروع کر دیا جائے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کے مطابق ڈیموکریٹس کی طرف سے یہ (انخلاء کی تجویز) ایک ’جارحانہ‘ قدم ہے، جو امریکہ میں ایک بڑی سیاسی کشمکش کا آغاز ہو سکتا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق صدر بش کو مزید فوج بھیجنے سے تو نہیں روکا جا سکتا، لیکن کانگریس کی مخالفت مول لے کر کیے گئے اس فیصلے کی انہیں بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں عراق مزید امریکی فوج بھیجنے کا امکان02 January, 2007 | آس پاس عراق میں مشکلات کا سامناہے : بش 20 December, 2006 | آس پاس عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع14 December, 2006 | آس پاس ’عراق اپنے مسائل خود حل کرے‘05 December, 2006 | آس پاس عراق سےفوج واپس نہیں بلاؤں گا: بش28 November, 2006 | آس پاس ایوان نمائندگان، ڈیموکریٹس کے پاس08 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||