عراق میں مشکلات کا سامناہے : بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ آنے والے سال میں عراق میں جنگ مزید قربانیاں مانگے گی اور اس کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عراق میں فوج کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں لیکن ابھی اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ صدر بش نے یہ بیانات نئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی عراق کے لیے روانگی سے قبل دیا ہے۔ مسٹر گیٹس پہلی بار عراق کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ امریکی فوجیوں اور عراقی عوام کے لیے یہ سال مشکل ترین تھا۔’امریکہ عراقیوں سے دو ہزار سات میں کچھ اور زیادہ چاہتا ہے۔‘ صدر بش نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مزاحمت کاروں نے امریکی فوجیوں کی عراق کو مستحکم کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیاہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’عوام کی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی کوششوں میں کمی نہ کریں۔‘ بدھ کے روز امریکہ نے صوبہ نجف کی سکیورٹی کے معاملات کو بھی عراقی حکومت کے حوالے کردیا ہے۔ نجف عراقی حکومت کے ماتحت آنے والا تیسرا صوبہ ہے۔ انہوں نے نئے وزیر دفاع گیٹس پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ عراق کی نئی حکمت عملی طے کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔ رابرٹ گیٹس عراق میں کمانڈرز سے ملاقات میں صلاح و مشورہ کریں گے تاکہ صدر بش کو نئی حکمت عملی ترتیب کرتے وقت وہاں کے حالات سے آگاہ کر سکیں۔ صدر بش آئندہ ماہ عراق کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||