عراق مزید امریکی فوج بھیجنے کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش آئندہ چند دنوں میں عراق کے بارے میں نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ صدر بش عراق کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان نشری تقریر میں کریں گے جس میں توقع ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد بڑھانے کی بات کریں گے تاکہ وہاں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کیا جاسکے۔ سنیچر کو عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پھانسی کے بعد یہ ان کی پہلی نشری تقریر ہو گی۔ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی بات ایک ایسے وقت کی جارہی ہے جب عراقی حکومت کے مطابق وہاں شہریوں کی ہلاکتوں میں تشویشناک حدد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ صدر جارج بش ٹیکساس میں چھٹیاں گزارنے کے بعد گزشتہ روز واشنگٹن واپس پہنچ گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کو صدر بش کی انتظامیہ کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صدر بش عراق کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان رواں ہفتے کے وسط میں کرنے کا ارادہ رکھتےہیں۔ اس تقریر میں صدر بش بنیادی طور پر امریکی سلامتی اور عالمی امن کے لیئے مزید قربانیوں دینے کی ضرورت پر بات کریں گے۔ عراق میں مجوزہ طور پر بھیجے جانے والے اضافی فوجی دستوں کے مشن کا ابھی تعین نہیں کیا گیا تاہم حکام کا خیال ہے کہ انہیں عراق کی سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی نہ کہ عراق فوج کو تربیت دینے کی۔ اگر عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے کی تجویز پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ ایک انتہائی متنازع قدم ہو گا۔ عراق کی حکام کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عراق میں ہر ماہ تقریباً دس ہزار کے قریب شہری مارے جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: 2007 افراتفری میں اضافے کا سال31 December, 2006 | آس پاس عراق دھماکوں میں 70ہلاک 30 December, 2006 | آس پاس گیٹس کا فوج بھیجنے کا پہلا حکم27 December, 2006 | آس پاس القاعدہ کے خلاف کامیابی کا دعویٰ22 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||