القاعدہ کے خلاف کامیابی کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے مغربی صوبہ انبار سے تعلق رکھنے والے سنی قبائل کے سرداروں کے ایک گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے کچھ ماہ میں انہوں نے القاعدہ کے ایک سو سے زائد ارکان کو پکڑا ہے۔ قبائلی سرداروں نے انبار میں امن و امان کے قیام کے لیے ’سالویشن کونسل‘ کی بنیاد رکھی اور پھر اس سال ستمبر میں حکومتی فورسز میں شامل ہو گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ علاقے میں اسلحہ اور غیر ملکی جنگجوؤں کو کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انبار میں آبادی کی اکثریت سنی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہ علاقہ القاعدہ میں شامل غیر ملکی جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ سالویشن کونسل کے سربراہ شیخ فیصل الگود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی انبار میں القاعدہ کے ہزاروں جنگجو اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری لڑائی دہشت گردوں کے ساتھ ہے، جو ملک میں پر تشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ معصوم شہریوں اور ہر اس شخص کو قتل کر رہے ہیں جو امن اور آزادی چاہتا ہے۔ یہ تنظیم (القاعدہ) عراق میں جاری تیس سے چالیس فیصد پر تشدد کارروائیوں کی ذمہ دار ہے‘۔
شیخ فیصل کے مطابق القاعدہ کے زیادہ تر جنگجو اور اسلحہ ہمسایہ عرب ممالک شام اور سعودی عرب اور کچھ دور دراز کے عرب ممالک اور افغانستان سے آتا ہے۔ امریکی فوج کو انبار میں امن و امان کی بحالی کی کوششوں میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبائلی سنی قبائلی سرداروں کے القاعدہ کے خلاف کامیابی کے دعوؤں کی تصدیق بہت مشکل کام ہے۔ پچھلے ماہ ان سرداروں نے القاعدہ کے پچپن جنگجوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ادھر سنی علماء کی ایک تنظیم ’مسلم سکالرز ایسوسی ایشن‘ کے شیخ حارث الدری نے قبائلی سرداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈاکو ہیں جو عراقی مزاحمت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’مشرقِ وسطی کا منظر بدل جائے گا‘22 December, 2006 | آس پاس عراق میں مشکلات کا سامناہے : بش 20 December, 2006 | آس پاس ’عراق میں ناکامی ایک آفت ہوگی‘19 December, 2006 | آس پاس القاعدہ ایک گلوبل تحریک ہے: فیصل06 November, 2006 | آس پاس امریکی ہلاک اور چار شہری زخمی15 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||