’مشرقِ وسطی کا منظر بدل جائے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے ایک مرتبہ پھر عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ عراق میں بہت کچھ قربان کیا گیا ہے تاہم وہاں پر ملنے والی فتح مشرق وسطٰی کو مکمل طور پر بدل دے گی۔ انہوں نے یہ بات آٹھ امریکی فوجیوں پر حدیثہ کے قتلِ عام کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کیئے جانے کے بعد خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ بی بی سی کے نمائندے جسٹن ویب کے مطابق انٹرویو میں امریکی وزیرِخارجہ نے واضح کیا کہ انہیں یقین ہے کہ اب بھی عراق کو مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی کے مرکزی حصے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عراق میں بہت قربانیاں دینا پڑی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم اس قابل ہے کہ اس میں قربانیاں دی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے عوامل ایسے ہیں جن سےظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں امریکی مہم جاری رہنی چاہیئے کیونکہ جب یہ ملک ایک نئے لحاظ سے ابھرے گا تو مشرقِ وسطٰی کا ایک نیا روپ سامنے آئےگا۔ امریکی صدر بش پر بھی کانگریس میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ عراق میں جنگ کے حوالے سے نئی حکمتِ عملی تلاش کریں۔ حالیہ مہینوں میں وائٹ ہاؤس کے متعدد مشیر یہ تجویز دے چکے ہیں کہ مشرقِ وسطٰی میں دراصل عرب اسرائیل مفاہمت ہی امن کی کنجی ثابت ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’بش نے بلیئر کا ذہن خراب کیا‘20 December, 2006 | آس پاس عراق میں مشکلات کا سامناہے : بش 20 December, 2006 | آس پاس صدر بش: مزید فوج بھیجنے پر غور20 December, 2006 | آس پاس بغداد خودکش حملہ، دس ہلاک21 December, 2006 | آس پاس عراق میں کامیاب نہیں ہورہے: بش20 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||