امریکی فوجیوں پر قتل کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر حدیثہ میں چوبیس نہتے شہریوں کے قتل کے الزام میں آٹھ امریکی فوجیوں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ چار فوجیوں کو غیر ارادی طور پر قتل کرنے اور چار پر اس واقعے کو چھپانے کے جرم میں فردِ جرم عائد کی گئی۔ نومبر دو ہزار پانچ میں پیش آنے والے اس واقعے میں مبینہ فوجیوں کے ہاتھوں عورتوں اور بچوں سمیت چوبیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ ’باوجود پیسے اور جانوں کے زیاں کے عراق ’اس قابل ہے کہ اس میں سرمایہ لگایا جائے‘۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عراق مستحکم ہو جائے گا تو وہ ایک مختلف قسم کا مشرقِ وسطیٰ پیش کرے گا۔
بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کئی ایک کے عرب اسرائیل مسئلے کا پہلے حل تلاش کرنے کے مشوروں کے باوجود رائس واضح طور پر سمجھتی ہیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی میں عراق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حدیثہ میں قتلِ عام سکواڈ لیڈر سٹاف سارجنٹ فرینک ووٹرچ کے وکیل کے مطابق ان پر جو فردِ جرم عائد کی گئی ہے اس میں بارہ عراقیوں کو غیر ارادی طور پر قتلِ کرنے اور اپنے فوجیوں کو چھ مزید افراد کو ہلاک کرنے کا حکم دینا شامل ہے۔ لانس کارپورل جسٹن شرات پر بھی اسی طرح کی تین فردِ جرم عائد کی گئیں۔ سارجنٹ ووٹرچ پر لگے الزامات کے مطابق انہوں نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا تھا کہ گھروں میں تلاشی کے لیے جب داخل ہوں تو ’پہلے گولی چلائیں اور بعد میں سوالات کریں‘۔ حدیثہ میں قتلِ عام کے متعلق ابتدائی طور پر امریکی فوج نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری فوجی قافلے پر بم حملے کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے لیکن بعد میں ملنے والی خبروں سے پتہ چلا کہ امریکی فوجیوں نے ان شہریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا۔ دفاعی وکلاء کے مطابق ملزم فوجیوں کے قافلے پر انیس نومبر دو ہزار پانچ کو سڑک کے کنارے رکھے گئے بم کے ذریعے حملہ کیا گیا اور بعد میں قافلے پر بھاری فائرنگ ہونے لگی جس سے قافلے میں شامل ایک امریکی فوجی مارا گیا جبکہ دو فوجی زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد اس مقام سے ایک کار میں سوار پانچ مردوں کی نعشیں ملیں جو کہ غیر مسلح تھے جبکہ بچوں اور عورتوں کی نعشیں قریبی گھروں سے برآمد ہوئیں۔ اس وقت امریکی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ چند شہری سڑک کے کنارے پھٹنے والے بم کے دھماکے سے ہلاک ہوئے اور باقی مزاحمت کاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی گولیوں کے علاوہ کہیں سے بھی گولی چلنے کی آواز نہیں آئیں۔ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی نے اس واقعے کو سنگین جرم قرار دیا تھا۔ امریکی فوج نے واقعے کی تحقیقات تین ماہ بعد اس وقت شروع کیں جب مقامی انسانی حقوق کے ایک کارکن کی بنائی ہوئی ویڈیو منظرِعام پر آ گئی۔ | اسی بارے میں حدیثہ: امریکی فوجیوں پر فردِ جرم21 December, 2006 | آس پاس امریکی تشدد پر نوری المالکی برہم02 June, 2006 | آس پاس اگر جرم کیا ہے تو سزا ملے گی: بش01 June, 2006 | آس پاس تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس حدیثہ کی آنکھوں دیکھی تفصیل 31 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||