BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 06:25 GMT 11:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی تشدد پر نوری المالکی برہم
حدیثہ میں چوبیس افراد کے قتلِ عام کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں
عراق کے وزیرِاعظم نوری المالکی نے عراقی شہریوں کے خلاف اتحادی فوج کے حملوں ہر کڑی تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے خلاف تشدد ان بین الاقوامی افواج کے لیئے عام سی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ بہت سے فوجیوں کی نظر میں شہریوں کی کوئی وقعت نہیں اور وہ ذرا سے شبہ پر ان کی گاڑیاں تباہ کرنے اور انہیں قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے‘۔

نوی المالکی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی حکومت حدیثہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بےگناہ عراقیوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کر چکی ہے۔ عراقی وزیرِعظم نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ امریکہ سے حدیثہ کے قتلِ عام سے متعلق تحقیقات کی اپیل کریں گے۔

اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ وہ ویڈیو کی صورت میں ملنے والے ثبوتوں کے بعد عراق میں اپنے فوجیوں کی جانب سے عراقی شہر اسحاقی میں گیارہ عراقیوں کو ممکنہ طور پر جان بوجھ کر ہلاک کرنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

عراق میں ایک امریکی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی پر دکھائی جانے والی اس ویڈیو سےگزشتہ مارچ میں عراق کے شہراسحاقي میں ہونے والے واقعات کے بارے میں امریکی فوج کے بیانات کی تردید ہوتی ہے۔

امریکی فوج نے واقعہ کے بعد بیان دیاتھا کہ فوجی کارروائی میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ عراقی پولیس نے دعوٰی کیا تھا کہ اس کارروائی میں گیارہ افراد کو دانستہ طور پر گولیاں ماری گئیں۔

امریکی حکام نے کہا تھا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک گھر میں القاعدہ کا ایک حامی چھپا ہوا ہے جس کے بعد کارروائی کے دوران مسلح جھڑپ شروع ہو گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے باعث گھر کی عمارت گر گئی جس میں چار افراد ایک مشبتہ شخص ، دو عورتیں اور ایک بچہ ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن عراقی پولیس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے گیارہ افراد جن میں پانچ بچے اور چار خواتیں بھی شامل تھیں گرفتار کر کے گولی مار دی اور اس کے بعد گھر کو اڑا دیا۔

بی بی سی کے عالمی امور کے ایڈیٹر جان سمسن کو ملنے والی ویڈیو میں ان گیارہ افراد کی لاشوں پر گولیوں کے واضح نشانات تھے۔ یہ تصاویر ایک سخت گیر سنی گروہ نے مہیا کی ہیں۔ ان تصاویر کی دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کی گئی ہے اور یہ اصل ثابت ہوئی ہیں۔

یہ ثبوت ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج پرگزشتہ سال نومبر میں حدیثہ کے علاقے میں چوبیس شہریوں کو ہلاک کرنے کاالزام لگایا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد