’بش نے بلیئر کا ذہن خراب کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے نائب صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق سے فوجیں نکالنے کے لیے کوئی نظام الاوقات نہ دینے کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا ذہن صدر بش نے خراب کیا ہے۔ طارق ا لہاشمی نے خیال ظاہر کیا کہ ٹونی بلیئر ان (طارق الہاشمی) کے نظام الاوقات کا اعلان کرنے کی تجویز کے حامی تھے لیکن صدر بش سے بات کرنے کے بعد ٹونی بلیئر نے اپنا ذہن بدل دیا۔ طارق الہاشمی اور وزیر اعظم بلیئر کے درمیان بات چیت تین ماہ قبل ہوئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم بلئیر نے اس معاملہ پر صدر بش سے بات کرنا تھی۔ واضح رہے اب تک صدر بش عراق سے فوجوں کے انخلاء کی کوئی تاریخ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ نیویارک میں بات کرتے ہوئے عراقی نائب صدر نے کہا کہ ٹونی بلیئر ان کے نظام الاوقات والی بات سے رضامند تھے۔ کونسل برائے خارجہ تعلقات سے خطاب کرتے ہوئے طارق الہاشمی نے کہا ’ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ کے صدر نے ٹونی بلیئر کو ایک طرح سے بلیک میل کیا۔‘ بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ ٹونی بلیئر کے ساتھ خاصے طویل مذاکرات کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری ٹیم کے قائل ہو رہے تھے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے پر ایک دو دن میں صدر بش سے بات کریں گے لیکن میں وہ مشترکہ پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا جو ٹونی بلیئر نے اپنے دورے کے اختتام پر صدر بش کے ساتھ کی تو میں نے دیکھا کہ ٹونی بلیئر خاصی مختلف باتیں کر رہے ہیں۔ اس سے مجھے لگا کہ انہوں نے فوجوں کے انخلاء کے مسئلے پر صدر بش سے بات کی جنہوں نے آخر کار ٹونی بلیئر کا ذہن تبدیل کر دیا ہے۔‘ اپنے اس خیال کی وضاحت کرتے ہوئے نائب صدر نے مزید کہا ’میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم بلیئر کو لگا کہ صدر بش ابھی تک اپنی اس بات پر جمے ہوئے ہیں کہ فوجوں کے انخلاء کے لیے کسی قسم کا ٹائم ٹیبل دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔‘ طارق الہاشمی، جو کہ عراقی اسلامی پارٹی کے سربراہ اور ملک کی ممتاز سنی شخصیت ہیں، اپریل میں ملک کے نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کے انتخاب کے کچھ ہی دن بعد ان کی بہن کو، جو کہ ان کی جماعت میں امور خواتین کے شعبہ کی سربراہ تھیں، بغداد میں ان کی کار پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل اسی ماہ طارق الہاشمی کے ایک بھائی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں صدر بش: مزید فوج بھیجنے پر غور20 December, 2006 | آس پاس ’عراق میں ناکامی ایک آفت ہوگی‘19 December, 2006 | آس پاس عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع14 December, 2006 | آس پاس ’جلدانخلا کاامکان نہیں‘30 November, 2006 | آس پاس عراق سےفوج واپس نہیں بلاؤں گا: بش28 November, 2006 | آس پاس عراق پر ٹونی بلیئر کا اعتراف18 November, 2006 | آس پاس جنگ پر کابینہ میں اختلاف نہیں: بلیئر30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||