BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 December, 2006, 07:35 GMT 12:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بش نے بلیئر کا ذہن خراب کیا‘
طارق الہاشمی
طارق الہاشمی تقریبا، تین ماہ قبل ٹونی بلیئر سے ملے تھے
عراق کے نائب صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق سے فوجیں نکالنے کے لیے کوئی نظام الاوقات نہ دینے کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا ذہن صدر بش نے خراب کیا ہے۔

طارق ا لہاشمی نے خیال ظاہر کیا کہ ٹونی بلیئر ان (طارق الہاشمی) کے نظام الاوقات کا اعلان کرنے کی تجویز کے حامی تھے لیکن صدر بش سے بات کرنے کے بعد ٹونی بلیئر نے اپنا ذہن بدل دیا۔

طارق الہاشمی اور وزیر اعظم بلیئر کے درمیان بات چیت تین ماہ قبل ہوئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم بلئیر نے اس معاملہ پر صدر بش سے بات کرنا تھی۔ واضح رہے اب تک صدر بش عراق سے فوجوں کے انخلاء کی کوئی تاریخ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

نیویارک میں بات کرتے ہوئے عراقی نائب صدر نے کہا کہ ٹونی بلیئر ان کے نظام الاوقات والی بات سے رضامند تھے۔ کونسل برائے خارجہ تعلقات سے خطاب کرتے ہوئے طارق الہاشمی نے کہا ’ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ کے صدر نے ٹونی بلیئر کو ایک طرح سے بلیک میل کیا۔‘

بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ ٹونی بلیئر کے ساتھ خاصے طویل مذاکرات کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری ٹیم کے قائل ہو رہے تھے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے پر ایک دو دن میں صدر بش سے بات کریں گے لیکن میں وہ مشترکہ پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا جو ٹونی بلیئر نے اپنے دورے کے اختتام پر صدر بش کے ساتھ کی تو میں نے دیکھا کہ ٹونی بلیئر خاصی مختلف باتیں کر رہے ہیں۔ اس سے مجھے لگا کہ انہوں نے فوجوں کے انخلاء کے مسئلے پر صدر بش سے بات کی جنہوں نے آخر کار ٹونی بلیئر کا ذہن تبدیل کر دیا ہے۔‘

اپنے اس خیال کی وضاحت کرتے ہوئے نائب صدر نے مزید کہا ’میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم بلیئر کو لگا کہ صدر بش ابھی تک اپنی اس بات پر جمے ہوئے ہیں کہ فوجوں کے انخلاء کے لیے کسی قسم کا ٹائم ٹیبل دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔‘

طارق الہاشمی، جو کہ عراقی اسلامی پارٹی کے سربراہ اور ملک کی ممتاز سنی شخصیت ہیں، اپریل میں ملک کے نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔

ان کے انتخاب کے کچھ ہی دن بعد ان کی بہن کو، جو کہ ان کی جماعت میں امور خواتین کے شعبہ کی سربراہ تھیں، بغداد میں ان کی کار پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل اسی ماہ طارق الہاشمی کے ایک بھائی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
’جلدانخلا کاامکان نہیں‘
30 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد