جنگ پر کابینہ میں اختلاف نہیں: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ مشرق وسطٰی بحران کے معاملے پر کابینہ میں کوئی اختلاف ہے۔ یہ خبریں کامنز کے رہنما جیک سٹرا کے اس بیان کے بعد زور پکڑ گئیں کہ اسرائیلی کارروائی ’غیر متناسب‘ ہے۔ کابینہ میں مئی میں آنے والی تبدیلیوں سے قبل جیک سٹرا برطانوی وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اشتعال انگیز کارروائی سے خطرناک صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری عجلت سے کام لیتی تو سیز فائر چند دن میں ہی ممکن تھا۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ بلیئر اس بیان پر تنقید یا اس کی توثیق نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم کے سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ بلیئر کی توجہ اور کوششیں لبنان کے مسئلے کے حل پر مرکوز ہیں۔ ثقافت کی وزیر ٹیسا جوئل کا کہنا ہے کہ ’سفارتی کوششوں کے حوالے سے بلیئر کافی با اثر ہیں، وہ محض واشنگٹن کے قدموں پر نہیں چل رہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کے مشرق وسطٰی کے معاملے پر ٹونی بلیئر پارلیمینٹری پارٹی اور لیبر پارٹی کے جذبات سے واقف ہیں اور وہ اس مسئلے پر بات چیت میں مصروف ہیں۔ جیک سٹرا نے اپنا بیان بلیک برن میں مسلمان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لبنان میں فوجی کارروائی پہلے ہی سے کمزور ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کردے گی۔ فوری سیز فائر کا مطالبہ نہ کرنے پر ٹونی بلیئر اپنی پارٹی کی جانب سے دباؤ میں ہیں۔ بلیئر نے کہا تھا کہ سیز فائر معاملے کا حل نہیں ہے۔ بلیئر چاہتےہیں کہ فوجی کارروائی اقوام متحدہ کی قرار داد کے ذریعے بند ہونی چاہیئے اور لبنان میں کثیرالقومی فوج تعینات کی جانی چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری عجلت سے کام لیتی تو یہ چند دن میں ممکن تھا۔ جب بلیئر سے یہ سوال کیا گیا کہ مشرق وسطٰی کی صورتحال برطانیہ کے لیئے خطرناک ثابت وسکتی ہے اور کیا یہاں دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کہ جب لوگ لوگ لڑائی کے لیئے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ یقیناً آپ کے خلاف بھی جائیں گے‘۔ اس جنگ میں 600 سے زائد لبنانی افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیل کے 51 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بلیئر ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے جمہ کو صدر بش سے ملاقات کی تھی۔ | اسی بارے میں ہتھیاربھرے جہازکو پرواز کی اجازت29 September, 2004 | آس پاس اسرائیلی جہازوں کی غزہ پر بمباری25 September, 2005 | آس پاس سی آئی اے جیلیں، جہازجرمنی بھی آئے04 December, 2005 | آس پاس ’سی آئی اے کے جہاز کیوں اُترے‘ 05 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||