BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ ایک گلوبل تحریک ہے: فیصل

فیصل دیو جی
فیصل نے القاعدہ کے نظریات پر کافی مطالعہ کیا ہے
جہاد اور القاعدہ کے موضوع پر انگریزی مصنفین کی کتابوں کی تو بھرمار ہے لیکن ان موضوعات پر مسلمان مصنفین کی تحقیقی کتا بوں کی کمی ہے۔

جب مظہر زیدی نے مجھے ’لینڈسکیپس آف دی جہاد‘ کے مصنف فیصل دیوجی کا انٹرویو کرنےکے لیے کہا تو میں نے فورٌا قبول کر لی۔

پہلی ملاقات کیونز پا رک کے علاقے مقامی پولیس سٹیشن کے باہر ہونا طے پائی۔ مقامِ ملاقات کی نوعیت سے ذہن میں القاعدہ، پولیس اور قومی سلامتی کے رشتے کے سوال منڈلانے لگے۔

کرتے پاجامے میں ملبوس فیصل دیو جی نے پب تک میری رہنمائی کی۔ فیصل دیوجی انگریزی لکھنوی انداز میں بولتے ہیں۔

ابتدائی سوال پر فیصل نے بتایا کہ ان کا تعلق ممبئی کے خوجہ گھرانے سے ہے لیکن وہ افریقہ کےملک تنزانیہ میں پلے بڑھے ہیں۔ مختلف برطانوی یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے کے بعد آج کل امریکی یونیورسٹی میں تعلیم دے رہے ہیں۔

فیصل کا خیال ہے کہ القاعدہ دوسری گلوبل تحریکوں مثلاً ماحولیاتی تحریک کی طرح کی ایک گلوبل تحریک ہے۔ مثال کے طور پرالقاعدہ کا مسلم امہ کا نظریہ اپنی جہت میں اسی طرح گلوبل ہے جیسے کہ ماحولیاتی تحریک کا نظریہ ہے۔

مزید یہ کہ القاعدہ کے بیانات اسی طرح ایتھیکل ہیں جس طرح ماحولیاتی تحریک کے۔ اس موازنے کو محدود کرتے ہوئے فیصل کہتے ہیں ’ایک دوسری سطح پر القاعدہ اپنے سیاسی تشدد کے پروگرام میں گلوبل ماحولیاتی تحریکوں سے مختلف ہے‘۔

فیصل کے مطابق القاعدہ کا کوئی تنطیمی ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ یہ چند افراد کے وقتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے گوبل سطح پر عارضی اجتماع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’

 القاعدہ کی دہشت گردی کے اقدامات ایک طرح سے اپنے آپ میں منفرد ہیں مثال کے طور پر 7 جولائی کے بمباروں میں سے کسی کا ذاتی طور پر کسی آپریشن کا تجربہ نہیں تھا لیکن ان کا سارا محورگلوبل تھا
القاعدہ کی دہشت گردی کے اقدامات اپنے آپ میں منفرد ہیں مثال کے طور پر 7جولائی کے بمبرز میں سے کسی کا ذاتی طور پر کسی آپریشن کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن ان کا سارا محورگلوبل تھا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’القاعدہ کو ایک سطح پر اطالوی سیاسی مفکر البرتوملوچی اور فرانسسی مفکر ایلن ترین کی نئی سماجی تنظیموں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے‘۔

فیصل کی دوسری اہم بات القاعدہ اور دوسری انتہا پسند سیاسی تنظیموں کے درمیان بدلتے تعلقات کے بارے میں ہے۔ ان کے مطابق القاعدہ کے منظر عام پر آنے کے بعد روایتی مذہبی سیاسی تنظیموں کو اعتدال پسند سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اب تک انتہا پسند سیاسی و مذ ہبی جماعتیں ایک مذہبی اور سیاسی پروگرام اور سیاسی عمل کے ذریعہ آگے بڑھتی ہیں اور ان کا سارا پروگرام زیادہ ترملکی سرحدوں کے اندر محدود رہتا ہے لیکن القاعدہ کا طریقۂ کار اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس وجہ سے دونوں طرح کی تنظیموں میں ٹکراؤ فطری ہے۔

القاعدہ لیڈر
ابومصعب الزرقاوی کے تشدد کے راستے نے کئی نوجوانوں کو تشددکی طرف آمادہ کیا
درحقیقت یہ عمل اب شروع ہوا ہے جس کا اظہار مسلم کونسل اور دوسری تنظیموں کی سیاسی اعتدال پسندی کے طور پر سامنے آیا ہے لیکن اس دلیل کا دوسرا رخ وہ ہے جو کہ ’نیویارکر‘ کے لارنس رائٹ کے مطابق ’القاعدہ کے رہنما ریاست اور حکومت پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں‘۔

فیصل نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ القاعدہ کے سیاسی اثرات کی موجودہ بنیاد صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہی۔ اس کا اظہار ساؤتھ ایشیائی نژاد نوجوان مسلمانوں کے القاعدہ سے متاثر دہشتگردی کے منصوبے ہیں۔یہ ایک اہم مشاہدہ ہے لیکن حقیقت تویہ ہے کہ اب بھی القاعدہ کا ذہنی مرکزمشرق وسطیٰ ہی ہے۔

فیصل سے گفتگو کے دوران بھڑکیلے لباس میں ملبوس ایک افریقی خاتون ہمارے ساتھ والی میز پر آ کر براجمان ہوگئیں اور ہماری گفتگو کو بڑے غور سے سننے لگیں۔ انٹرویو کے خاتمے پر وہ سرک کر ہماری میز پر آ گئیں۔ انہوں نے اپنے انگریزخاوند کو کوسنے کے بعد فیصلہ صادر کیا کہ القاعدہ حکومتوں کی پیداوار ہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

 فیصل کا کہنا ہے کہ القاعدہ کو ایک سطح پراطا لوی سیاسی مفکر البرتوملوچی اور فرانسسی مفکر ایلن ترین کی نئی سماجی تنظیموں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ یہ ہمارے سوال و جواب کا مرکز تو نھیں تھا لیکن اس افریقی حسینہ نےدریا کو کوزے میں سمو دیا۔

القاعدہ بیک وقت پیچدہ اور آسان مسئلہ ہے۔ سیاست دان اسے ایک آسان نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں جب کہ سنجیدہ لوگ القاعدہ کو ایک پیچیدہ عمل قرار دے رہے ہیں۔ امن کی راہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔

اسی بارے میں
القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ
05 August, 2005 | آس پاس
4000 غیرملکی ہلاک: القاعدہ
29 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد