بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ہفتے جارج بُش عراق پر اپنی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے اس اعلان پر امریکیوں اور عراقیوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی نظریں لگی ہیں۔ اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ جارج بش حالیہ امریکی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے والی امریکی عوام کے پُر زور اِصرار پر وہ عراق میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں گے یا وہاں سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کریں گے، تو ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ جارج بش اب بھی اسی شدت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہیں کہ امریکہ عراق سے کامیاب ہو کر ہی نکلےگا، ورنہ نہیں۔ عراق میں ہاتھ سی نکلتی صورتحال پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے انہوں نے پچھلے ہفتے اپنے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈروں اور اہم سفارتی عہدوں میں بڑے پیمانے کا ردوبدل کر دیا۔اطلاعات کے مطابق وہ عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ صدر بش کا قوم سے یہ خطاب تیاریوں کے آخری مرحلے میں ہے اور ابھی اس میں ردوبدل ممکن ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ یہ اعلان بدھ یا جمعرات کو کریں گے۔اس دوران امریکی حکومت کو جنگِ عراق میں اپنے بڑے اتحادیوں مثلاً برطانیہ، آسٹریلیا اور ڈنمارک کی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔ جارج بُش کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وسیع تر مشاورت اور سوچ بچار کے بعد ترتیب دی جانے والی صدر بش کی یہ نئی حکمتِ عملی عراق میں امریکہ کی ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدلنے کا جامع منصوبہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مجوزہ اضافی دستے کم از کم ایک بریگیڈ یعنی چار ہزار فوجیوں اور زیادہ سے زیادہ پانچ بریگیڈوں یعنی بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں، جن کی تعیناتی اس سال مئی یا جون تک مکمل کی جا سکےگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی کچھ ہفتے پہلے تک امریکہ کے فوجی کمانڈر کہتے رہے ہیں کہ عراق میں مزید فوج کی ضرورت نہیں۔عراق میں لڑنے والے ریٹائرڈ اور موجودہ امریکی جرنیلوں میں سے کئی ایک کا آج بھی یہ کہنا ہے کہ صدر بش کی مجوزہ حکمتِ عملی کے کارگر ثابت ہونے کے امکانات بہت کم ہیں اور یہ کہ عراق میں مزید امریکی جوان بھیجنے سے وہاں جاری خون ریزی قابو کرنے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اسی دوران، ڈیموکریٹس کی اکثریت والی نئی کانگریس کے اہم رہنمائوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ عراق میں مزید امریکی جوان بھیجنے کی مخالفت کریں گے۔ایک بیان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نو منتخب سپیکر نینسی پلوسی نے صدر بش کو تنبیہ کی کہ وہ مزید امریکیوں کو عراق بھیجنے کی بجائے وہاں پہلے سے موجود سوا لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں کی مرحلہ وار واپسی کے اعلان پر غور کریں۔ اگر ڈیموکرٹس اور صدر بش عراق پر اپنے اپنے موقف پر واقعی ڈٹے رہے تو آنے والے دنوں میں کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان غیرمعمولی سیاسی تصادم دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق مزید امریکی فوج بھیجنے کا امکان02 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس نئی سپیکر کا فوجیں واپس بلانےکامطالبہ04 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس عراق: پرتشدد واقعات، 12 ہلاک07 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||