عراق: پرتشدد واقعات، 12 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام کی جانب سے سکیورٹی سخت کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے تازہ آپریشن کے جواب میں ملک میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گزشتہ رات شروع کیے گئے آپریشن کے بعد سے پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں متعدد بم حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایک حملے میں بظاہر وزارت تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل حبیب الشماری کے گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملے میں الشماری تو بچ گئے البتہ ان کے دو ذاتی محافظ ہلاک ہوگئے۔ بغداد کے جنوبی علاقے ہلہ میں ایک کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک ہی روز قبل اعلان کیا ہے کہ بغداد میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے گروہوں کے خلاف تازہ کارروائی کریں گے۔ ایک اور واقعے میں بغداد کے مرکزی حصے میں ایک مارٹر حملے میں چار شہری ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ رات حکام کے مطابق عراقی فوجیوں نے 30 سے زائد مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا ہے جبکہ کئی مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ دریں اثناء امریکی فوج نے جنوب مغربی بغداد میں اپنے دو مزید فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی عراق میں ایک امریکی سکیورٹی ٹھیکیدار کے لیے بطور مترجم کام کرنے والے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں جمعہ کو اغوا کیا گیا تھا۔ ادارے کا ٹھیکیدار اب تک لاپتہ ہے۔ | اسی بارے میں عراق میں ایک سال میں ریکارڈ ہلاکتیں02 January, 2007 | آس پاس عراق: امریکی ہلاکتیں’تین ہزار‘31 December, 2006 | آس پاس عراق: ہلاکتوں کے بعد گرفتاریاں 31 December, 2006 | آس پاس عراق دھماکوں میں 70ہلاک 30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||