عراق: امریکی ہلاکتیں’تین ہزار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ہلاکتوں کے اعداد وشمار مرتب کرنے والے گروپوں کے مطابق بغداد میں ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے امریکی فوجی کی ہلاکت کے ساتھ ہی عراق میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار ہوگئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی اس فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی اٹھائیس دسمبر کو مارا گیا۔ تین ہزار ہلاکتوں کی خبر 2006 کے اختتامی دن سامنے آئی ہے اور ہلاکتوں کے اعتبار سے اس سال کا آخری مہینہ عراق میں موجود امریکی افواج کے لیے خونریز ترین ثابت ہوا ہے۔ ہلاکتوں کی اس تعداد کو ایک غیر جانبدار ویب سائٹ اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اکھٹا کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارک بیلسٹروس کا کہنا ہے کہ’ ہر جان کا نقصان قابلِ افسوس ہے تاہم ہلاکتوں کی کل تعداد کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے‘۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بش اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی قربانی رائیگاں نہ جائے۔ ادھر عراق سے امریکی فوج کی واپسی کے حمایتی گروہوں کے اتحاد نے تین ہزار فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے واشنگٹن میں ایک ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ عراق میں ہلاکتوں کے حوالے سے یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر بش عراق کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی کو سامنے لانے کی تیاری کر رہے ہیں جس میں ممکنہ طور پر عراق میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی بات بھی کی جائے گی۔ | اسی بارے میں عراق: ہلاکتوں کے بعد گرفتاریاں 31 December, 2006 | آس پاس عراق دھماکوں میں 70ہلاک 30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘31 December, 2006 | آس پاس کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس عراق: 2007 افراتفری میں اضافے کا سال31 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||