’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی پھانسی ایک انتقامی عمل نہیں تھا۔ عراقی صدر کے مشیر حیوا عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ سزا کا یہ سارا عمل انصاف سے متعلق تھا‘۔ عراقی صدر کے مشیر کا یہ بیان صدام کی پھانسی کے وقت موبائل فون سے بنائی گئی اس نئی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک شخض تختۂ دار پر موجود صدام حسین پر طعنہ زنی کر رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پھانسی کے وقت کے یہ مناظر عراق میں صدام حسین کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان موجود خلیج میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ صدام حسین کی پھانسی سے کچھ دیر قبل کے جو مناظر سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے تھے ان سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ پھانسی کے عمل سے قبل صدام اور انہیں پھانسی دینے والے افراد کے درمیان کسی قسم کی تلخ کلامی نہیں ہوئی تاہم انٹرنیٹ اور عرب اور غیر ملکی چینلوں پر نشر کی جانے والی غیر سرکاری ویڈیو میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پھانسی کے عمل کے مشاہدے کے لیے موجود افراد نے صدام پر طعنے کسے اور ان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ویڈیو کے مطابق صدام حسین جس وقت پھانسی کے تختہ پر کھڑے تھے تو وہاں موجود ایک شخص نے مقتدی الصدر کےحق میں نعرے لگائے اور صدام کو جنہم رسید ہونے کا طعنہ دیا۔تختہ دار پر کھڑے صدام حسین نے طعنوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ کیا تم اس کو بہادری سمجھتے ہو!‘ اس کے بعد صدام حسین قرانی آیات کی تلاوت کرتے سنائی دیتے ہیں اور پھر تختہ کھینچ لیا جاتا ہے اور ان کا بے جان جسم جھولنے لگتا ہے۔ عدالت کی جانب سے پھانسی دیئے جانے کے عمل کی نگرانی کرنے والے جج منیر حداد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے سے چند منٹ پہلے ایک گارڈ نے کہا کہ کیا ان کو موت سے ڈر لگتا ہے تو صدام حسین نے جواب دیا کہ انہوں نے ساری زندگی کافروں سے لڑنے میں گزاری ہے اور انہیں موت سے ڈر نہیں لگتا۔ بغداد میں بی بی سی کے نمائندے پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ مقتدٰی الصدر کے نام کے نعروں سے یہ عراقی صدر کے حامیوں میں یہ تاثر جنم لے سکتا ہے کہ صدام حسین کی پھانسی عراقی انصاف کی بجائے شیعوں کے انتقام کا نتیجہ تھی۔ تاہم عراقی صدر کے ترجمان حیوا عثمان نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آور‘ کو بتایا کہ’طعنے وہاں کھڑے ایک عام شخص نے دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا’ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ صدام پر چلاّنے والا کون تھا یا وہ خود کسے برا بھلا کہہ رہے تھے، لیکن میرے خیال میں وہ کوئی حکومتی اہلکار نہیں تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ ویڈیو میں سنائی دی جانے والی طعنہ زنی کی وجوہات سمجھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ صدام کے ہاتھوں تکالیف کا شکار ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان میں سے کچھ کسی نہ کسی حیثیت میں اس موقع پر موجود بھی ہوں گے۔ ممکن ہے کہ یہ ان افراد کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہو اور وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے ہوں‘۔ یاد رہے کہ معزول عراقی صدر انہتر سالہ صدام حسین کو’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی پاداش میں ہفتہ کی صبح بغداد میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا اور پھانسی کے بائیس گھنٹے بعد رات کے اندھیرے میں انہیں ان کے آبائی قصبے عوجہ میں دفنا دیا گیا تھا۔ ان کی تدفین کے موقع پر صرف ان کے قبیلے کے چند لوگ موجود تھے۔ بی بی سی کے جان سمپسن کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت اس حوالےسے پریشان نہیں کہ صدام کی قبر ان کی حامیوں کے اجتماع کا مقام بن سکتی ہے اور عراقی وزراء کے خیال میں صدام کی پھانسی سے عراق پر ان کے اثر کامکمل ختامہ ہو گیا ہے۔ تاہم صدام کے متعدد حامیوں نے انہیں دفنائے جانے کے بعد ان کے آبائی قصبے کا دورہ کیا اور ان کی موت کا بدلہ لینے کا عزم کیا ہے۔ چوبیس سالہ محمد نتیق کا کہنا تھا کہ’ خدا کو صدام کا ایسا انجام منظور تھا لیکن ان کا مشن اور وہ راستہ جو انہوں نے اپنایا ہمیشہ موجود رہے گا‘۔ |
اسی بارے میں کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس عراق: ہلاکتوں کے بعد گرفتاریاں 31 December, 2006 | آس پاس عراق: 2007 افراتفری میں اضافے کا سال31 December, 2006 | آس پاس صدام حسین عوجہ میں سپردِ خاک31 December, 2006 | آس پاس ’تم اس کو بہادری سمجھتے ہو!‘31 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||