عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش بدھ کی رات ٹی وی اور ریڈیو پر امریکی عوام سے اپنے چھ سالہ دورِ صدارت کا ایک اہم ترین خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ اپنی اس تقریر میں وہ عراق میں کامیابی کے لیے امریکیوں کے سامنے اپنا نیا جامع نسخہ پیش کریں گے۔ جارج بش جس ماحول میں مزید بیس ہزار امریکی جوانوں کو عراق بھیجنے کا متوقع اعلان کرنے جا رہے ہیں اس فیصلے میں وہ قدرے تنہا دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی عوام کی اکثریت جارج بش کے عراق سے متعلق ان دعوؤں پر بھروسہ کرتی نظر نہیں آتی کہ ’ایک نہ ایک دن کامیابی امریکہ کی ہوگی‘ جبکہ ڈیموکریٹس اکثریت والی کانگریس میں انہیں عراق میں مزید فوجیں بھیجنے پر سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی جیسے سینیئر ڈیموکریٹ ارکان واضح کر چکے ہیں کہ صدر بش کو اکیلے ایسے اہم فیصلے کرنے سے پہلے کانگریس کے منتخب اراکین کو پوری طرح اعتماد میں لے کر مطمئن کرنا ہوگا جبکہ سوائے جو لیبر مین اور جان مکین جیسے چند سرکردہ سینیٹروں کے، صدر بش کے اپنے ریپبلیکن اراکین بھی اُن کے نئے منصوبے سے زیادہ اُمیدیں لگاتے نظر نہیں آرہے۔ زیادہ ترمبصرین جارج بش کے اس ’نسخے‘ کو کسی نئی مثبت تبدیلی کی بجائے صدر بش کی اب تک کی غیر مؤثر عراق پالیسی کے تسلسل کے طور دیکھ رہے ہیں۔
بدھ کے خطاب میں جارج بش کی کوشش ہوگی کہ وہ امریکیوں کو یہ یقین دلائیں کہ عراق میں خون ریزی بند کرانے میں اب تک کی مشکلات سے وہ بہت کچھ سیکھے ہیں اور یہ کہ حالات کو امریکی جیت کی طرف لے جانے کے لیے امریکی لوگ ان کی نئی حکمتِ عملی پر اعتماد کریں۔ توقع ہے کہ جارج بش فوجوں میں اضافے کو اپنے جامع پلان کا صرف ایک جُز قرار دیں گے۔ ان کا زیادہ زور امریکیوں کو اس بات پر قائل کرنے پر ہوگا کہ عراق میں وزیرِ اعظم نوری المالکی کی حکومت اب ہمت اور اعتماد کے ساتھ اپنی سیاسی و فوجی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ مزید امریکی فوج کے اعلان کے ساتھ ساتھ توقع ہے کہ صدر بش عراق میں تعمیرِ نو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھاری امریکی امداد کا بھی اعلان کریں گے۔ لیکن اس ہفتے رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے کے مطابق، امریکہ میں لوگوں کی اکثریت عراق سے فوجوں کی مرحلہ وار واپسی دیکھنا چاہتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے سروے میں شامل تین چوتھائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر بش کی عراق پالیسی سے ناخوش ہیں۔ امریکی ووٹر اپنی اس رائے کا اظہار نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کو جِتوا کر کر چکے ہیں۔ جس کے بعد صدر بش نے اتنا کیا کہ عراق جنگ کے مرکزی حامی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا۔ اب تک مشرقِ وسطی میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جان ابی زید اور عراق میں امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر جنرل کیسی کا یہ موقف ریکارڈ پر موجود ہے کہ’امریکہ کو عراق میں مذید فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں‘۔ جواب میں پچھلے ہفتے جارج بش نے اپنے فوجی جرنیلوں کے مشوروں کو ایک طرف رکھ کر اُنہیں ہی ان کے عہدوں سے علیحدٰہ کر دیا۔ پچھلے دو برسوں میں عراق صدر بش کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بن کر ابھُرا ہے۔ اُن کے دورِ صدارت کے آئندہ دو برس کیسے گزریں گے، اِس کا کافی دارو مدار اُن کے عراق سے متعلق آج کے اعلانات پر ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق سےفوج واپس نہیں بلاؤں گا: بش28 November, 2006 | آس پاس بش کی عراق پالیسی میں تاخیر13 December, 2006 | آس پاس عراق میں کامیاب نہیں ہورہے: بش20 December, 2006 | آس پاس صدر بش: مزید فوج بھیجنے پر غور20 December, 2006 | آس پاس عراق میں مشکلات کا سامناہے : بش 20 December, 2006 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج کا اعلان آج متوقع 10 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||