صدام کی موت سے خلیج گہری ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے بغداد کے کیمپ جسٹس میں تختۂ دار پر چڑھتے وقت شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر کے حامیوں کے طعنوں نے عراقیوں کے جذبات میں جو آگ لگائی تھی اس کی تپش ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس سنیوں کا ہیجان اور زیادہ ہوگیا ہے۔ دوسری جانب عراق اور دوسری جگہوں میں شیعہ اپنی کامیابی کو شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں۔ صدام حسین نے اپنے مخالفین کو موت کے بعد بھی بالکل اسی طرح سے منقسم رکھا ہوا ہے جیسا کہ اپنی زندگی میں انہوں نے کیا۔ ان کی موت نے شیعہ اور سنی تعلقات پر گہری ضرب کا کام کیا۔ عراق میں سنی اقلیت میں ہیں لیکن صدام حسین کی زیرِقیادت عراقی اقتدار پر ان کا غلبہ رہا۔ جب صدام حسین نے اسّی کی دہائی میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد اس پر حملہ کیا تو اسلامی دنیا میں اس جنگ کو شیعہ سنی جنگ کے طور پر دیکھا گیا۔ اس عرصے میں کئی سنی مسلم سربراہان مملکت نے صدام حکومت کی مدد و حمایت کی۔ یہ جنگ بے نتیجہ رہی۔
مگر جب سنہ دو ہزار تین میں امریکی اور برطانوی فوج نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت ختم کر دی تو عراق پر سنی کنٹرول بھی ختم ہوگیا اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں شیعہ اکثریتی حکومت قائم ہوگئی۔ اب مشرق وسطیٰ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عراقی حکومت کا طرزعمل فرقہ وارانہ ہوگا۔ بہت سے سنیوں کا خیال ہے کہ شیعہ اکثریتی حکومت کے قیام کے بعد سے عراق، ایران کی نوآبادی بن گیا ہے۔ درحقیقت صدام حسین کی سزا پر عملدرآمد کے وزیراعظم نوری المالکی کے فیصلہ کا تعلق بھی ملکی سیاست سے زیادہ نظر آتا ہے۔ نوری المالکی کے بارے میں عمومی تاثر یہ تھا کہ وہ کمزور شخصیت کے مالک ہیں مگر اپیل مسترد ہونے کے تھوڑی ہی عرصے بعد صدام حسین کو پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ اس تاثر کو غلط ثابت کرتا ہے۔ اگرچہ اس فیصلہ سے ان کے حامی خوش ہیں مگر مسلم دنیا میں موجود شیعہ سنی خلیج اور زیادہ ہوگئی ہے۔
صدام حسین کو عیدالاضحی کے موقع پر سزائے موت دینے سے بھی سنیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مصری صدر حسنی مبارک کے بقول انہوں نے امریکی صدر جارج بش کو اس بارے میں خبردار کیا تھا مگر صدر بش نے بظاہر کچھ نہیں کیا۔ اب صدر مبارک برہم ہیں: ’انہیں کس بات کی جلدی تھی؟ جب لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے اس وقت پھانسی دینے کی کیا ضرورت تھی؟‘ مصری صدر نے پھانسی کے عمل کو بربریت سے تعبیر کیا کیونکہ ان کے خیال میں شیعہ محافظوں نے صدام حسین پر فقرے کسے، انہیں طعنے دیئے اور کلمۂ شہادت بھی پوری طرح نہیں پڑھنے دیا۔ اردنی شہر اومان میں ایک شخص کا کہنا ہے: ’مجھے عراق کی حالت پر افسوس ہوتا تھا کہ امریکیوں اور برطانویوں نے اسے برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ مگر اب میں خوش ہوں کہ وہ اسی کا مستحق ہے۔‘ میں کہہ چکا ہوں کہ صدام حسین اپنے مخالفین کے لیے قبر میں ایک ہفتے بعد بھی پہلے جیسے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں طعنہ زنی ’مکمل طور پر غلط تھی‘07 January, 2007 | آس پاس صدام کو پھانسی کے خلاف مظاہرے01 January, 2007 | آس پاس ’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘31 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||