BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 January, 2007, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طعنہ زنی ’مکمل طور پر غلط تھی‘
پھانسی کا مشاہدہ کرنے والے کچھ افراد نے صدام کو طعنے دیے تھے
برطانوی وزیراعظم کے سرکاری ترجمان نے صدام حسین کی پھانسی کے وقت پیش آنے والے واقعات کو’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا ہے۔

ترجمان نے پھانسی کے عمل سے قبل صدام پر طعنہ زنی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ یہ عمل اس طریقے سے نہیں ہونا چاہیے تھا‘۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم کو صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کسی قسم کا تبصرہ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

تاہم وزیراعظم نے تاحال خود اس معاملے پر کچھ نہیں کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صدام حسین کی پھانسی کے بارے میں بذات خود آئندہ ہفتے بات کریں گے۔

چانسلر براؤن نے پھانسی کے وقت پیش آنے والے واقعات کو ’ قابلِ مذمت‘ اور ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا

برطانیہ کے نائب وزیراعظم جان پریسکاٹ پہلے ہی پھانسی سے متعلق واقعات کی مذمت کر چکے ہیں اور چانسلر گورڈن براؤن نے بھی بی بی سی کے ایک پروگرام میں پھانسی کے وقت پیش آنے والے واقعات کو ’ قابلِ مذمت‘ اور ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا۔

گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ’ اب جب کہ مکمل تصویر سامنے آ چکی ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قابلِ مذمت واقعات تھے اور ایسے واقعات شیعہ اور سنیوں کے درمیان موجود تناؤ کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتے‘۔

چانسلر گورڈن براؤن کے بیان کے بعد لبرل ڈیموکریٹ رہنما سر مینزز کیمبل نے کہا تھا کہ’ وزیراعظم کی جانب سے صدام کی پھانسی کے وقت پیش آنے والے شرمناک واقعات کی مذمت نہ کرنے سے انہیں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد