’پھانسیاں اسی ہفتے ہوں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت کا کہنا ہے صدام حسین کے سوتیلے بھائی اور سابق عراقی جج کو رواں ہفتے میں پھانسی دے دی جائے گی۔ حکومتی ترجمان علی الدباغ نے بتایا کہ برزان التکریتی اور عواد البندر کی پھانسی کے حکم ناموں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور اب اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ’ یقیناً پھانسی کے حکم پر دستخط ہو چکے ہیں اور اب بس عمل ہونا باقی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دیکھا جا رہا ہے‘۔ عراقی حکومت کی جانب سے پھانسی کے وقت کا اعلان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی اس اپیل کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدام حسین کے ساتھیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں تعینات عراقی سفیر کو بھیجے گئے ایک خط میں بان کی مون نے عراقی عدالت کی طرف سے دی جانے والی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد سے گریز کرنے کی درخواست کی تھی۔ عراقی حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اقوامِ متحدہ کے نقطۂ نظر کا احترام کرتی ہے تاہم اس کے سامنے صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے ظلم کا شکار افراد کے مطالبات بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے یہ اپیل اس وقت کی گئی ہے جب معزول عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے کے طریقہ کار، جس میں ان پر فقرے کسے گئے اور فلم بنائی گئی، پر دنیا بھر میں تنقید کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں برطانوی وزیراعظم کے سرکاری ترجمان نے صدام حسین کی پھانسی کے وقت پیش آنے والے واقعات کو’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا ہے۔ترجمان نے پھانسی کے عمل سے قبل صدام پر طعنہ زنی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ یہ عمل اس طریقے سے نہیں ہونا چاہیے تھا‘۔
صدام حسین کو تیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کی صبح ’دجیل کیس‘ کے حوالے سے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا اور اب ان کے دور حکومت میں عراقی خفیہ ادارے کے سربراہ رہنے والے برزان التکریتی اور چیف جج عواد البندر کو بھی اسی مقدمے میں سنائی جانے والی سزا کے تحت پھانسی دی جانی ہے۔ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے انیس سو اسی میں عراقی گاؤں دجیل میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو اڑتالیس افراد کو قتل کرایا۔ صدام حسین کی پھانسی پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ اس عمل پر تنقید کرنے والی حکومتوں کے ساتھ روابط پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’پھانسی نے صدام کو شہید بنا دیا‘05 January, 2007 | آس پاس ’فِلم بنانےوالے کو ڈھونڈنکالاجائےگا‘04 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں ہوں گی: عراقی حکومت 04 January, 2007 | آس پاس مزید پھانسیاں نہ دیں، اقوامِ متحدہ04 January, 2007 | آس پاس کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘31 December, 2006 | آس پاس صدام: آخری لمحات کی غیر سرکاری ویڈیو31 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||