پھانسی داخلی معاملہ: المالکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم نوری المالکی نے صدام حسین کی پھانسی پر ہونے والی عالمی تنقید یہ کہتے ہوئے مسترد کردی ہے کہ یہ عراق کا ’داخلی معاملہ‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق ایسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرسکتا ہے جو صدام حسین کی پھانسی پر تنقید کریں گے۔ وزیراعظم المالکی کا کہنا تھا کہ پھانسی کا فیصلہ ایک ایسے شخص کی ’منصفانہ سماعت‘ کے بعد کیا گیا جو عراق اور اس کے اداروں کے خلاف ’شرمناک جرائم‘ کا مرتکب تھا۔ نوری المالکی نے کہا کہ ان کی حکومت صدام حسین کے دور کے دیگر اہلکاروں کو سزا دینے سے بھی نہیں ہچکچائے گی۔ صدام حسین کے دو ساتھیوں ان کے سوتیلے بھائی برزان ابراہیم التکریتی اور عواد احمد البندر کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی عراقی فوجی کریں گے جنہیں امریکی افواج کی مدد حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران مسلح گروہوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔ وزیراعظم المالکی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے نئے منصوبے کے تحت بغداد میں رہنے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن یہ اقدامات ان کے تحفظ کے لیے ہی ہیں۔ المالکی نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب صدر جارج بش اپنی عراق پالیسی کے بارے میں نئے اعلانات کرنے والے ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ مزید امریکی فوج عراق بھیجی جائے گی۔ |
اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس صدام حسین عوجہ میں سپردِ خاک31 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||