صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق چھ بجے سے کچھ دیر قبل پھانسی دے دی گئی۔ عراق کے نائب وزیرِ خارجہ لبید عباوی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ عراق کے سرکاری ٹیلی وژن عراقیہ نے صدام حسین کے پھانسی کے خبر دیتے ہوئے اعلان کیا: ’مجرم صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا ہے۔‘ صدام حسین کو پانچ نومبر کو انیس سو بیاسی میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کو دجیل میں ہلاک کرنے کے حکم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے خلاف ان کی اپیل بھی مسترد ہوگئی تھی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ آیا صدام حسین کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کی گئی ہے یا نہیں۔ سابق عراقی صدر کی بیٹی نے درخواست کی تھی کہ ان کے والد کو امانتاً یمن میں دفن کیا جائے۔
ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ صدام حسین اور دیگر دو افراد کو کس مقام پر پھانسی دی گئی۔ عراقی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ صدام حسین کا منہ ڈھانپ کر انہیں امریکی فوجیوں نے تختۂ دار تک لے جایا گیا۔ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کے ایک حلیف نے بتایا کہ صدام حسین کی پھانسی کی فلم بنائی گئی ہے اور ’خدا نے چاہا تو اسے ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ پھانسی کے وقت ایک کیمرہ مین اور ایک ڈاکٹر بھی موقع پر موجود تھے۔ عراق اور بالخصوص بغداد میں ممکنہ ردِ عمل کے پیشِ نظر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ صدام حسین کے آبائی قصبے تکریت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نمائندے پیٹرگرسٹ کا کہنا ہے کہ عراق کی شیعہ آبادی نے اس پھانسی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے صدام دور میں ہونے والے مظالم کا بدلہ قرار دیا ہے تاہم عراقی سنّیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بش انتظامیہ اس پھانسی کو عراق کی ایک جمہوری حکومت کے خودمختار فیصلے کے طور پر پیش کر رہی ہے اور امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ’صدام کی پھانسی عراق کے لیے ایک ہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدام کو وہ انصاف ملا جس سے انہوں نے اپنے عہد میں اپنے مخالفین کو محروم رکھا‘۔
صدام حسین کی پھانسی پر برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہیں عراقی عوام کے خلاف کیے گیئے جرائم کی سزا ملی ہے۔ اپنے بیان میں مارگریٹ بیکٹ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت عراق یا کہیں بھی سزائے موت دیے جانے کی حامی نہیں لیکن وہ ایک خودمختار قوم کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اپنے بیان میں عراقی عوام سے کہا ہے کہ’وہ مستقبل کی فکر کریں اور باہمی رواداری اور قومی اتحاد کے حصول کے لیے کام کریں کیونکہ ان کا اصل مقصد مکمل خودزحتاری اور استحکام کی جانب لوٹنا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس قذافی کی بیٹی، صدام کا دفاع 03 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||