’پھانسی نے صدام کو شہید بنا دیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ صدام حسین کو پھانسی دینے کے طریقے نے انہیں ’شہید‘ بنا دیا ہے۔ صدر حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ پھانسی کی جو غیرسرکاری تصاویر سامنے آئی ہیں وہ ’سفاکانہ اور کراہت انگیز‘ ہیں۔ صدام حسین کی پھانسی کے دوران ’افراتفری اور طعنے کسنے کے الزامات‘ کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی ہے۔ مصر امریکہ کا ایک اہم اتحادی ملک ہے اور ان دو عرب ملکوں میں سے ہے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ صدر مبارک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے امریکی صدر جارج بش کو ایک خط لکھا تھا جس میں اپیل کی گئی تھی کہ صدام حسین کو پھانسی عیدالاضحٰی کے موقع پر نہ دی جائے۔ صدر بش سمیت دیگر امریکی اہلکاروں نے صدام حسین کی پھانسی سے اپنے آپ کو مستثنٰی کرلیا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ انصاف کا تقاضا پورا ہوا ہے۔
صدر مبارک نے کہا: ’دنیا بھر میں لوگوں کو پھانسیاں دی جاتی ہیں لیکن بغداد میں عیدالاضحٰی کے پہلے دن جو کچھ ہوا اس کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ مجھے یقین نہیں آیا۔‘ ’اتنی جلدی کیا تھی؟ انہیں ایسے وقت پھانسی کیوں دی جائے جب لوگ عبادت کررہے ہیں؟ پھر پھانسی کی تصاویر سفاکانہ اور کراہت انگیز تھیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صدام پھانسی کے حقدار تھے یا نہیں تھے۔ میں اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ (غیرملکی) قبضے کے تحت یہ عدالت قانونی ہے یا نہیں۔‘ عراق اور مصر کے تعلقات 1990 میں کویت پر ہونے والی فوج کشی تک دوستانہ تھے۔ اس کے بعد مصر کویت سے عراق کے انخلاء کے لیے عالمی فوج میں شامل ہوا تھا۔ مصری رہنما حسنی مبارک نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ صدام حسین کو عراق سے ہٹانے کے لیے 2003 میں فوج کشی نہ کرے۔ |
اسی بارے میں مالکی کی عہدہ چھوڑنے کی خواہش03 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں ہوں گی: عراقی حکومت 04 January, 2007 | آس پاس ’فِلم بنانےوالے کو ڈھونڈنکالاجائےگا‘04 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||