BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 January, 2007, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالکی کی عہدہ چھوڑنے کی خواہش
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی
عراقی وزیر اعظم نےروزنامہ ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ وہ وزیر اعظم بننا ہی نہیں چاہتے تھے
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونا بالکل پسند نہیں ہے اور وہ اس عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے بھی اس سے دستبردار ہونا پسند کریں گے۔

امریکی روزنامہ ’وال سٹریٹ جرنل ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مسٹر مالکی کہتے ہیں کہ وہ ہر گز اس عہدے کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں بننا چاہیں گے۔

’میں یہ عہدہ لینا ہی نہیں چاہتا تھا۔ میں صرف قومی مفاد کے خاطر اس کے لیے راضی ہوا تھا لیکن میں ایسا پھر نہیں کروں گا۔‘

نوری المالکی کے دور حکومت میں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی دھڑوں میں بھی اختلافات بڑھے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں۔

مسٹر مالکی صدام حسین کے خلاف لڑنے والی شعیہ مزاحمتی تحریک کے رکن ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے لیے صرف اس وقت نامزد ہوئے جب سنی اور کرد اراکین پارلیمان نے اکثریتی شعیہ اتحاد کے پہلے امیدوار کو قبول نہیں تھا۔ مسٹر مالکی کی نامزدگی پر تمام جماعتیں متفق ہو سکی تھیں اور انہوں نے پچھلے سال مئی کے مہینے میں یہ عہدہ سنبھال لیا تھا۔

مسٹر مالکی کے اپنی شعیہ اتحاد میں مختلف گروہوں میں بھی اختلافات رہے ہیں اور ان پر قابو پانا ان کے لیے مشکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سنی سیاستدان ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے عراق میں سرگرم شعیہ ملیشا گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے نا کافی کوششیں کی ہیں۔

پچھلے سال امریکی روزنامہ ’دی نیو یارک ٹائمز‘ نے امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر کے ان کے بارے میں لکھے گئے دستاویز کو شائع کیا تھا۔ اس میں نور المالکی کی قیادت پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ اس کے باوجود صدر بش نے بعد میں یہ بیان دیا کہ مسٹر مالکی کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

تاہم عراقی وزیر اعظم امریکہ سے خاصے ناخوش ہیں اور کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراقی افواج کو مناسب تربیت نہیں دی اور نہ ہی انہیں پورا ساز و سامان فراہم کیا ہے۔

انہوں نے یہ بات ایک بار پھر ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے دہشت گردوں کو مار کر بھاگنے کا موقع مل جاتا ہے۔ عراق میں جو ہو رہا ہے وہ مختلف ’گینگز‘ کی لڑائی ہے اور ساتھ ایک دہشت گرد جنگ بھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط فوج کی ضرورت ہے جس کے پاس فوری رد عمل کی صلاحیت ہو۔‘

تاہم عراقی وزیر اعظم نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ان کو یقین ہے کہ عراق میں امن بحال ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد