مزید پھانسیاں نہ دیں، اقوامِ متحدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی موُن نے بھی عراق کے صدر جلال طالبانی سے صدام حسین کی حکومت میں شامل دو اعلیٰ اہلکاروں کی پھانسی روکنے کی اپیل کی ہے۔ اس سے قبل انسانی حقوق کی ہائی کمشنر لویز آربر نے یہ اپیل کی تھی۔
آربر نے کہا تھا کہ انہوں نے معزول صدر صدام حسین کے مقدمے پر عدالتی کارروائی کے خلاف جن تحفظات کا اظہار کیا تھا وہ اسی مقدمے میں صدام حسین کے شریک ملزمان ان کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی اور سابق جج اواد البندر کے بارے میں بھی ہیں۔ اس سے قبل بدھ کو سیکریٹری جنرل بان کی موُن نے صدام حسین کی پھانسی کی مذمت نہ کر کے اقوام متحدہ کی طرف سے روایتی طور پر سزائے موت کی مخالفت کی روایت سے انحراف کیا تھا۔ عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق التکریتی اور البندر کو جمعرات کو پھانسی دی جانی ہے لیکن عراقی حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی پھانسی کی تاریخ طے ہو چکی ہے۔ اسی دوران عراقی حکام نے کہا تھا کہ اس شحض کو ڈھونڈ نکالا جائے گا جس نے عراق کے معزول صدر کی پھانسی کے وقت ویڈیو فلم بنائی تھی اور افسران کے مطابق اب اس سلسلے میں ایک گارڈ سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ تاہم گارڈ کی گرفتاری کی خبر کی عراقی حکومت نے تصدیق نہیں کی۔ | اسی بارے میں صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام اور وکلاء عدالت سے باہر20 September, 2006 | آس پاس ’اپیل سےروکا جا رہا ہے‘20 November, 2006 | آس پاس صدام کے خلاف مقدمات: سوالات 05 November, 2006 | آس پاس ’پھانسی رُکنے کا امکان پیدا ہوا‘ 02 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||