’پھانسی رُکنے کا امکان پیدا ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ پھانسی کے وقت معزول صدر صدام حسین پر فقرے بازی کے وقت استغاثہ کے مبصر منکث الفارون نے وہاں سے چلے جانے کی دھمکی دی تھی۔ اگر استغاثہ کے وکیل موقع سے چلے جاتے تو پھانسی ملتوی کرنی پڑتی کیونکہ ملک کے آئین کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد کے وقت استغاثہ کے مشاہد کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ مسٹر فارون کا کہنا ہے کہ انہوں نے موجود ان گارڈز کو خاموش ہونے کے لیے کہا تھا جو صدام حسین کو طعنے دے رہے تھے۔ ویڈیو میں مسٹر فارون کی آواز سنی جا سکتی ہے جب وہ ان افراد کو خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ مسٹر فارون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس موقع پر دو سینیر سرکاری اہلکاروں کو ٹیلی فون پر پھانسی کی فلم بناتے ہوئے بھی دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ’فلم انہوں نے چھپ کر نہیں بنائی، وہ یہ کام کھلم کھلا کر رہے تھے۔ اور مجھے اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پیسوں کے لیے فلم بنائی ہو، لیکن یہ جرم ہے۔ اور پھانسی کوئی چھپ کر تو نہیں دی جار ہی تھی، ہم نے اس کا اعلان کیا تھا، اور ہمارے پاس فلمنگ کے لیے اپنا کیمرہ موجود تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فلم لوگوں کو دکھائی جانی تھی۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ اتنا ہنگامہ کس بات پر ہو رہا ہے۔‘
مسٹرفارون کے مطابق امریکیوں نے سب کے فون پہلے ہی اپنے قبضے میں کر لیے تھے۔ عراقی حکومت نے ایک انکوائری کا اعلان کیا ہے جس میں معلوم کیا جائے گا کہ فلم کس نے بنائی اور فون اندر کیسے پہنچے۔ عراقی حکومت کے ایک ترجمان محمد العسکری نے کہا کہ حکومت قانون کی پاسداری کرنا چاہتی ہے اور کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، لہذا یہ انوائیری یہ پتا لگانے کے لیے قائم کی گئی ہے کہ یہ فلم کس نے بنائی اور صدام حسین پر فقرے کس نے کسے۔ عراقی حکام کو خدشہ ہے کہ صدام کی پھانسی کی اس غیر سرکاری ویڈیو فلم سے ملک کی سنی اور شیعہ آبادی کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ موبائل ویڈیو فلم صدام کو پھانسی دیئے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی تھی۔ وزیراعظم نور المالکی کے مشیر سمیع العکسری کے مطابق صرف ایک گارڈ کی وجہ سے اتنی بدنامی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران، مقدمے کی سماعت کے دوران، ہر وقت ہم نے بہت احتیاط سے کام لیا، اور پھر آخری لمحات میں صرف ایک ناسمجھ شخص نے فقرے بازی کرکے سب بگاڑ دیا۔ جلاد کے تختہ کھینچتے وقت ایک شخص صدام کو ’جہنم میں جاؤ‘ کہتا ہے۔ کئی اور افراد شیعہ رہنما مقتدی الصدر اور ان کے والد محمد صادق صدر کے نام لے کر نعرے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد صادق صدر کو صدام کے ایجنٹوں نے قتل کردیا تھا اور صدام حسین سے طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں ’ کیا تم اسے بہادری سمجھتے ہو؟۔‘ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم جان پریسکاٹ نے صدام حسین کو پھانسی دینے کے طریقہ کار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسی کے وقت کے حالات انتہائی ’افسوس ناک‘ تھے۔ ادھر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ صدام حسین کو انہی قوتوں نے پھانسی دی ہے جو کبھی ان کی حمایت کرتے تھے۔ بظاہر ان کا اشارہ مغرب اور امریکہ کی جانب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جنہوں نے ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی انہوں نے ہی اب صدام کو تختہ دار پر بھیجا ہے اور اب وہ صدام حسین کی موت کو بھی عراق میں فرقہ ورایت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین عوجہ میں سپردِ خاک31 December, 2006 | آس پاس صدام: آخری لمحات کی غیر سرکاری ویڈیو31 December, 2006 | آس پاس ’صدام حسین جو باغبان تھا‘01 January, 2007 | آس پاس صدام کو پھانسی کے خلاف مظاہرے01 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||