صدام کو پھانسی کے خلاف مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کے خلاف عراق اور اردن میں سینکڑوں لوگوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ بغداد کے سنی علاقوں میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’صدام تم ہی ہمارا وطن ہو‘ اور ’ہم تمہاری موت کا انتقام لیں گے‘۔ عراق میں بغداد، تکریت اور سمارا میں مظارہ ہوئے ہیں جبکہ مسلم دنیا کے مختلف علاقوں سے صدام حسین کی پھانسی کے خلاف مظاہروں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ان میں فلسطینی علاقے اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر شامل ہیں۔ اردن کے داراحکومت امان میں مظاہرین نے صدام حسین کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور کچھ دیر کے لیے صدام حسین کی بیٹی راغے بھی مظاہرےمیں شامل ہوئیں۔ انہوں نے مظاہرین کی ’شہید صدام حسین کی حمایت‘ کا شکریہ ادا کیا۔
عراق کے معزول صدر کی دو بڑی بیٹیاں اپریل دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد پناہ کے لیے اردن چلی گئی تھیں۔ اردن میں حزب اختلاف کے ایک رہنما نے کہا کہ صدام حسین کو عرب دنیا کا رہنما تصور کیا جانا چاہیے۔ ’صدام حسین ہی وہ رہنما تھا جس نےامریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا، وہ بے مثال ہے‘۔’وہ واحد رہنما ہے جس نے عراق کی دولت کو عرب قوم کی دولت سمجھا، صدام حسین نے عربوں کی مدد کی اور ان رہنماؤں کاساتھ دیا جو اب ان کی مخالفت کرر ہے ہیں۔ وہ عرب قوم کے رہنما ہیں‘۔ ادھر امریکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بغداد میں ایک عمارت پر حملہ کرکے چھ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس عمارت میں القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے افراد کو پناہ دی جاتی تھی۔ |
اسی بارے میں ’صدام حسین جو باغبان تھا‘01 January, 2007 | آس پاس صدام حسین عوجہ میں سپردِ خاک31 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘31 December, 2006 | آس پاس کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||