’صدام حسین جو باغبان تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قید میں گزرے اپنی زندگی کے آخری تین سالوں میں صدام حسین باغبانی کرتے اور بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے کافی اور سگار پیتے رہتے۔ تیس دسمبر کو تختۂ دار پر لٹکا دیئے جانے والے معزول عراقی صدر کے قید میں گزرے شب و روز کے بارے میں یہ انکشافات ان کی دیکھ بھال پر مامور نرس ماسٹر سارجنٹ رابرٹ الیز نے ایک اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔ سارجنٹ الیز سال دو ہزار چار اور سال دو ہزار پانچ کے دوران جیل میں صدام حسین کی دیکھ بھال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معزول عراقی صدر کو امریکی فوجیوں نے ’وکٹر‘ یعنی فاتح کا نام دے رکھا تھا۔ سارجنٹ الیز کا کہنا تھا کہ قید کے دوران صدام شکایت کم ہی کرتے تھے۔ ’مجھے حکم تھا کہ صدام کو زندہ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کروں‘۔ ان کے مطابق ایک کرنل نے انہیں واضح کیا تھا کہ صدام کو امریکی حراست میں ہلاک نہیں ہونا چاہیے۔ سارجنٹ الیز کے مطابق معزول عراقی صدر کو جیل کے ایک ایسے کمرے میں رکھا گیا تھا جو چوڑائی میں چھ فٹ اور لمبائی میں آٹھ فٹ تھا۔ کمرے میں انہیں ایک چارپائی، ایک میز، دو پلاسٹک کی کرسیاں اور دو واش بیسن فراہم کیے گئے تھے۔
’وہ اپنا بچا کچھا کھانا سنبھال کر رکھتے تا کہ جب بھی باہر آنے کا موقع ملے تو پرندوں کو ڈال سکیں‘۔ سارجنٹ الیز کے مطابق صدام حسین اپنے کمرے کے باہر ایک کیاری میں لگے پودوں کو بھی باقاعدگی سے پانی دیتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ معزول عراقی صدر کہا کرتے تھے ’میں جوانی میں ایک کسان تھا اور میں کبھی بھی نہیں بھولتا کہ میرا ماضی کیا ہے‘۔ سارجنٹ الیز نے مرحوم صدر کی شخصیت کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کی شاندار صلاحیت تھی۔ صدام بتایا کرتے تھے کہ جب ان کے بچے چھوٹے تھے تو وہ انہیں سونے سے پہلے کہانیاں سنایا کرتے تھے اور معدے کی خرابی کا شکار اپنی بیٹی کو دوائی دینا یاد کیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹے اودھے اور قصے کو سال دو ہزار تین میں امریکی فوجیوں نے مار دیا تھا۔ معزول صدر موت کے بارے میں بات نہیں کرتے تھے اور اپنے دورِ اقتدار کے حوالے سے انہیں کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ ان کہنا تھا کہ انہوں جو سب کچھ عراق کے لیے کیا۔
سارجنٹ الیز کے مطابق صدام حسین نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ امریکہ نے (عراق پر) حملہ کیوں کیا جبکہ عراق میں نظام قانون ٹھیک تھا اور اسلحہ کے معائنہ کاروں کو بھی کچھ نہیں ملا تھا۔ بستر مرگ پر پڑے اپنے بھائی کو دیکھنے کے لیے سارجنٹ الیز کو جب امریکہ واپس جانا پڑا تو صدام نے انہیں گلے لگایا اور کہا ’تم میرے بھائی ہو‘۔ سارجنٹ الیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدام حسین کو کبھی بھی تنگ نہیں کیا تھا۔ ’بلکہ میں ان کی مدد کے لیے تعینات تھا، اور وہ اس امر کا احترام کرتے تھے‘۔ | اسی بارے میں کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس زندگی کے آخری لمحات میں کیا ہوا30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||