BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 January, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدام کی پھانسی: فلم کس نے بنائی؟‘
صدام حسین
موبائل ویڈیو فلم میں صدام کو پھانسی کے وقت طعنے دیے گئے ہیں (فائل فوٹو)
عراق کی حکومت نے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے کے وقت موبائل کے ذریعے بنائے جانے والی خفیہ فلم کے بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

اس غیر سرکاری فلم میں سینچر کو معزول صدر کی پھانسی کے وقت موجود افراد کی جانب سے ان پر طعنے کستے اور ان کی بے عزتی کرتے دکھایا گیا ہے۔

قدرے دھندلی اس موبائل ویڈیو فلم میں پھانسی کے وقت موجود ایک شخص کی طرف سے سابق صدر کو’جہنم میں جاؤ‘ کہتے سنا گیا۔

برطانیہ کے نائب وزیراعظم جان پریسکاٹ نے صدام حسین کو پھانسی دینے کے طریقہ کار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسی کے وقت کے حالات انتہائی ’افسوس ناک‘ تھے۔

عراقی حکام کو خدشہ ہے کہ صدام کی پھانسی کی اس غیر سرکاری ویڈیو فلم سے ملک کی سنی اور شیعہ آبادی کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ موبائل وڈیو فلم صدام کو پھانسی دیئے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد انٹر نیٹ پر جاری کر دی گئی تھی۔

صدام کو پھانسی
معزول صدر کو 1980 میں 148 شیعہ افراد کی ہلاکت میں ملوث ہونے پر بغداد کی ایک عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں سنیچر کو علی الصبح بغداد میں پھانسی دی گئی اور اس کے ایک دن بعد صدام کو ان کے آبائی گاؤں تکریت کے قریب دفن کیا گیا

وزیراعظم نور المالکی کے مشیر سمیع العکسری نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا’وہاں پر کچھ گارڈز تھے جنہوں نے غیر مناسب نعرے لگائے اور اب حکومت اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے‘۔

صدام حسین جو ایک سنی مسلمان تھے انہیں بغداد کی ایک عدالت نے 1980 میں 148 شیعہ افراد کی ہلاکت میں ملوث ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں سنیچر کو علی الصبح بغداد میں پھانسی دی گئی اور اس کے ایک دن بعد صدام کو ان کے آبائی گاؤں تکریت کے قریب دفن کردیا گیا تھا۔

عراقی حکام کی جانب سے بعد ازاں صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے کے عمل کی سرکاری ویڈیو نشر کی گئی تھی تاکہ لوگوں کو اس بات کا ثبوت مل سکے کہ صدام حسین ہلاک ہوگئے ہیں تاہم حکومتی فلم میں کسی قسم کی کوئی آواز شامل نہیں تھی اور نہ ہی موت کا اصل لمحہ دکھایا گیا تھا جبکہ موبائل فون سے بنائی جانے والی فلم میں ان کی پھانسی کے بعد کے مناظر بھی شامل ہیں۔

جلاد کے تختہ کھینچتے وقت ایک شخص صدام کو ’جہنم میں جاؤ‘ کہتا ہے جبکہ دوسرے شیعہ رہنما مقتدا صدر اور محمد صادق صدر، جنہیں صدام حسین کے ایجنٹوں نے قتل کردیا تھا، کے نعرے لگاتے ہیں۔ اس کے جواب میں صدام ان سے طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں؟ کیا تم اسے بہادری سمجھتے ہو؟۔

مظاہرینصدام کی پھانسی
صدام حسین کی پھانسی پر عوامی ردِعمل
صدام حسین’بش اور صدام‘
صدام کی پھانسی کیا ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے؟
صدام حسینصدام کی پھانسی
امریکی صدر سمیت عالمی رہنماؤں کا ردِعمل
صدام حسین’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘
صدام کے مقدمے میں خامیوں کے انکشافات
صدام حسین’سکرپٹ بغیر ہیرو‘
مقدمات کمزور، مگر صدام حسین متلون مزاج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد