BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 January, 2007, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی ساکھ خراب سے خراب تر
گزشتہ برس کے سروے کی نسبت اب زیادہ رائے دہندگان نے امریکی پالیسی کی مخالفت کی ہے
بی بی سی ورلڈ سروس کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں اور عالمی سطح پر امریکی کردار انحطاط کا شکار ہوا ہے۔

رائے دہندگان میں سے اننچاس فیصد کا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ نے منفی کردار ادا کیا ہے۔ البتہ کینیا، نائیجیریا اور فلپائنز میں لوگوں کی رائے ہے کہ امریکی کردار مثبت رہا ہے۔

بی بی سی کے لیے کمپنی گلوب سکین کے اس سروے میں پچیس ممالک سے چھبیس ہزار سے زیادہ افراد نے حصہ لیا۔ ان افراد میں سے تہتر فیصد نے (امریکی عوام کے ستاون فیصد) عراق پر امریکی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔

رائے دہندگان کی اکثریت نے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے پانچ دیگر شعبوں میں بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ رائے عامہ کا یہ جائزہ صدر بش کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب سے قبل سامنے آیا ہے۔

ایشیا میں جن چھ ممالک میں یہ سروے کیا گیا، ان میں بھارت، چین، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور فلیپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں سے صرف چین میں امریکہ پر مثبت رائے میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم چین میں بھی امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے رائے اکثر منفی تھی۔

انڈونیشیا اور جنوبی کوریا میں امریکہ کے بارے میں سب سے برا تاثر سامنے آیا۔ سروے میں شامل تقریباً آدھے جنوبی کوریائی باشندوں کا خیال تھا کہ امریکہ کا کردار باقی دنیا کے لیے منفی ہے، جبکہ انڈونیشیا میں دس میں سے سات شرکاء نے بھی یہی رائے دی۔

رائے دہندگان میں سے سڑسٹھ فیصد نے (جن میں پچاس فیصد امریکی ہیں) گوانتانامو کے قید خانے کے بارے میں امریکی پالیسی مسترد کردی جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کے حوالے سے پینسٹھ فیصد افراد نے جن میں پچاس فیصد امریکی ہیں، امریکی پالیسی کو نامنظور کیا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی پالیسی کے خلاف رائے دینے والوں کی شرح باسٹھ فیصد تھی۔ عالمی حدت پر 80 فیصد رائے دہندگان نے امریکی پالیسی کو مسترد کر دیا۔ جرمنی، ارجنٹینا اور فرانس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے امریکہ کی اس پالیسی پر تنقید کی۔ شمالی کوریا کے بارے میں امریکی پالیسی کو 54 فیصد افراد نے منظور نہیں کیا۔

سروے میں ایک دلچسپ بات جو سامنے آئی وہ امریکہ کے بارے میں بھارت میں خیالات تبدیل ہوگئے ہیں۔ دو سال پہلے کیے گئے سروے کے مطابق بھارت میں آدھے سے زیادہ شرکاء کا کہنا تھا کہ امریکہ کا کردار مثبت رہا ہے لیکن اس نئے سروے میں صرف بیس فیصد شرکاء نے اس رائے کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق یورپی ممالک میں امریکہ کے بارے میں رائے یکساں نہیں۔ جرمنی میں سروے میں حصہ لینے والے تین چوتھائی افراد کا کہنا تھا کہ امریکہ کا باقی دنیا پر اثر منفی ہے۔ فرانس میں بھی سروے کے نتائج کچھ ایسے ہی تھے۔

وہ ممالک جو ماضی میں امریکہ کی حمایت کرتے رہے ہیں، وہاں بھی اب لوگوں کی رائے کچھ مختلف تھی۔ پولینڈ میں سروے کے ساٹھ فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ امریکہ کا کردار منفی رہا ہے جبکہ گزشتہ سال صرف بیس فیصد افراد کا یہ خیال تھا۔ پولینڈ میں آدھے شرکاء نے عراق پر امریکی پالیسی کی تنقید کی۔

لیکن سروے میں شامل باقی سات یورپی ممالک میں کم از کم ستر فیصد شرکاء نے عراق میں جنگ کی مخالفت کی۔ اٹلی، پرتگال اور روس میں اسی فیصد افراد نے عراق میں جنگ کو غلط قرار دیا۔

سروے میں شامل افریقی ممالک میں امریکہ پر رائے کچھ مختلف پائی گئی۔ کینیا میں سات میں سے دس شرکاء نے دنیا میں امریکہ کے کرادر کو مثبت قرار دیا۔

کینیا میں اکثر شرکاء کا کہنا تھا کہ عراق، ایران اور عالمی حدت پرامریکی پالیسی صحیح ہے۔ لیکن گوانتانامو بے اور گزشتہ سال لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ پر آدھے سے بھی کم شرکاء نے مثبت رائے دی۔

نائیجیریا میں سروے کے شرکاء کی رائے کینیا سے ملتی جلتی تھی۔ اکثر نے عراق میں جنگ کو صحیح قرار دیا جبکہ گوانتانامو بے کے سلسلے میں زیادہ تر شرکاء کی رائے منفی تھی۔

اسی بارے میں
رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس
08 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد