عراق: صدر بش کا مخالفین کو چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے عراق میں بیش ہزار مزید فوج بھیجنے سے متعلق اپنے نئے منصوبے پر ہونے والی تنقید کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اپنی ہفتہ وار نشری تقریر میں صدر بش نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس نے اراکین کو اپنے موقف کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے لیکن ہر چیز کو بغیر سوچے سمجھے مسترد کر کے وہ غیر ذمہ داری کو ثبوت دے رہے ہیں۔ عراق سے متعلق صدر بش کے نئے منصوبے کو ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس سے عراق میں پہلے سے خراب حالات میں مزید ابتری آئے گی۔ صدر بش نے کہا کہ جو عناصر عراق کے بارے میں ان کے منصوبے پر عمل درآمد کے خلاف ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں متبادل تجاویز سامنے لائیں۔ صدر بش نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے مشرقِ وسطی کے دورے کے آغاز میں یروشلم میں اسرائیلی حکام سے بات چیت کر رہی ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کا مقصد عراق کے بارے میں صدر بش کے نئے منصوبے کے لیے عرب قیادت کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کئی عرب رہنما اس منصوبے حمایت کے بدلے فلسطین اسرائیل بحران میں زیادہ فیصلہ کن امریکی کردار کے خواہاں ہیں۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس بش کی نئی پالیسی پر عالمی ردعمل 11 January, 2007 | آس پاس کونڈالیزا رائس اسرائیل پہنچ گئیں 13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||