BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 January, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کونڈالیزا رائس اسرائیل پہنچ گئیں
کونڈلیزا رائس
کونڈلیزا رائس کا کہنا ہے کہ وہ ’اسرائیل فلسطین تنازعہ‘ کے حل کے لیے کوئی نئی تجاویز نہیں لا رہیں
امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس اپنے دورہِ مشرق وسطیٰ کے سلسلہ میں تل ابیب پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ کوشش کریں گی کہ اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔

کونڈالیزا رائس سنیچر کو اسرائیلی وزراء سے ملاقاتیں کریں گی، جبکہ اتوار کو ان کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات ہوگی۔ اپنے دورے کے اس مرحلے کے اختتام پر وہ پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کے ساتھ ملاقات کریں گی۔

تاہم مشرق وسطیٰ کے سات روزہ دورہ پر روانہ ہونے سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ’اسرائیل فلسطین تنازعہ‘ کے حل کے لیے کوئی نئی ٹھوس تجاویز پیش کرنے نہیں جا رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل میں امریکہ اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ’اس میں مصر، اردن اور سعودی عرب کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا‘۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس عمل میں اسرائیل اور فلسطینیوں میں سے ابو میزان (فلسطینی صدر محمود عباس) جیسے معتدل عناصر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

امریکہ تنہا کچھ نہیں کر سکتا
 مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل میں امریکہ اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس میں مصر، اردن اور سعودی عرب کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا
کونڈالیزا رائس

امریکہ فلسطینی علاقے میں صدر محمود عباس کو مضبوط کرنا چاہ رہا ہے، جن کی تنظیم ’فتح‘ اور حکمراں تحریک ’حماس‘ کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ امریکہ صدر محمود عباس کو ان کے محافظ دستے کی تربیت اور اسے جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے پچاسی ملین ڈالر دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

حماس جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے کو مغربی ممالک اور اسرائیل ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

سنیچر کو حماس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کونڈالیزا رائس کا دورہ علاقے میں مزید تفرقے اور انتشار کا سبب ہوگا۔ ’اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں‘۔

اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور فلسطینی علاقے کے علاوہ مصر، اردن، کویت اور سعودی عرب بھی جائیں گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کونڈالیزا رائس اپنے دورہِ مشرق وسطیٰ کے دوران صدر بش کی ’نئی عراق پالیسی‘ کے حوالے سے خطے میں رائے ہموار کرنے کی کوشش کریں گی۔

خانہ جنگی کا سبب
 کونڈالیزا رائس کا دورہ علاقے میں مزید تفرقے اور انتشار کا سبب ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں
حماس

نئی عراق پالیسی کے حوالے سے کونڈالیزا رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران یا شام کو عراق میں کوئی ایسی سرگرمی جاری رکھنے نہیں دےگا جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو۔

ان کا کہنا تھا ’میرے نزدیک دنیا میں کوئی حکومت ایسی نہیں ہوگی جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے اور عراق میں مختلف گروہوں خصوصاً ایرانیوں کو وہ نیٹ ورک چلانے دے جو اعلیٰ درجے کے ایسے بم بنانے میں مصروف ہیں جن کا نشانہ ہمارے فوجی بنتے ہیں‘۔

دریں اثناء عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ مزاحمت کاروں نے کرکوک میں شیعہ مسلک کی ایک زیرِ تعمیر مسجد کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

ایک دیگر واقعے میں کرکوک شہر میں ہی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو تعمیراتی کارکنوں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد