عراقی اختلافات جلد حل کریں: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس عراق کے شمال میں کُرد رہنماؤں سے ملاقات کر رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے آخری مرحلے میں کونڈولیزا رائس کُرد صدر مسعود برزانی سے ملی ہیں۔ توقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کردوں پر زور دیں گی وہ کہ سُنی اور شیعہ تنظیموں کے ساتھ مِل کر کام کریں جس میں خاص طور پر تیل کی آمدنی کی تقسیم کا معاملہ شامل ہے۔ رائس جمعرات کو بغیر پیشگی اعلان کے بغداد پہنچی تھیں جہاں انہوں نے وزیر اعظم نوری مالکی سے ملاقات کی۔ وہ کُرد رہنما سے ملاقات کے لیئے بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور نے بتایا کہ کردوں کی طرف سے غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ تیل کی تلاش کے معاہدوں کے بارے میں بغداد میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔ عراق کے نئے آئین میں شمالی عراق میں کردوں کے لیئے خود مختاری کی بات کی گئی ہے لیکن آئین کی اس شق پر عملدرآمد کے معاملے میں اختلافات پائے جاتے ہیں جو کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔ سُنیوں کو خدشہ ہے کہ شمال میں کرد اور جنوب میں شیعہ تیل کے وسائل کے ساتھ علیحدہ ہو جائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صدر برزانی نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملاقات کو مثبت قرار دیا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے برزانی کے حوالے سے بتایا کہ عراقی کردوں کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ عراق کے لیئے ایک وفاقی، جمہوری اور کثیر القومی آئین کے پابند ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق برزانی نے کہا کہ وہ عراق میں تیل کی آمدنی کی منصفانہ تقسیم کے حق میں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ اگر کُرد آزادی کا مطلب ملک کے شمال میں تیل کے ذخائر پر ان کا کنٹرول ہوا تو امریکہ اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ کونڈولیزا رائس دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں سے ملاقات کر چکی ہیں۔ | اسی بارے میں کونڈولیزا رائس عراق پہنچ گئیں05 October, 2006 | آس پاس رائس: صدر عباس کی حمایت05 October, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||