BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس: صدر عباس کی حمایت
صدر محمود عباس اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس
دونوں رہنماؤں کی بدھ کو رملہ میں ملاقات ہوئی
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور مالی بحران کو ٹھیک کرنے میں فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

دونوں لیڈروں نے بدھ کو ہونے والی اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس کی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ خطے میں امن قائم کرنے کے اس ’ٹو سٹیسٹ‘ منصوبے کے حق میں ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینی ایک دوسرے کی خود ارادیت قبول کر کے پر امن طریقے سے ساتھ رہ سکیں۔

کونڈولیزا رائس نے محمود عباس سے کہا کہ’ آپ کو میری، صدر بش کی اور امریکہ کی اس مقصد کے لیئے پوری حمایت حاصل ہے۔‘

انہوں نے غرب اردن اور غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’فلسطینیوں کے حالات بہتر کرنے کے لیئے اپنی کوششیں دوگنی کرے گا۔‘

لیکن امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر فلسطینیوں کی منتخب حماس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کو بدلنا ہی مناصب ہوگا۔ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور وہ اس سے روابط نہیں رکھنا چاہتا۔ امریکہ یورپ اور اسرائیل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں نے فلسطینیوں کے حالات بگاڑ دیے ہیں۔ حماس حکومت کا خزانہ خالی ہے اور سرکاری ملازمین کو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

فلسطینی صدر نے اس موقع پر کہا کہ ان کی حماس کے ساتھ ایک متحد حکومت بنانے پر مذاکارت نا کام ہو گئے ہیں’اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ اور میں کہہ چکا ہوں کہ بات چیت کا عمل ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔ اب ہمیں اچھی طرح سے اس پر غور کرنا ہوگا کہ ہمارا اگلا قدم کیا ہو۔‘

محمود عباس اور ان کی تنظیم فتح پچھلے ایک ماہ سے حماس کے ساتھ قومی حکومت تشکیل کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن بدھ کو صدر نے کہہ دیا کہ یہ کوشش ناکام رہی ہے۔ حماس اور فتح کے کارکنوں کے درمیان حال میں کئی جھرپیں ہوئی ہیں اور ان میں اب تک گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نامہ نگاروں اور سییاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے صدر عباس کی تعریفیں اور حمایت کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر وہ فلسطینیوں کو کچھ نہیں دے سکی ہیں۔

حماس کا موقف ہے کہ وہ کسی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جو کی اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ حماس کے وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ نے کونڈولیزا رائس کے دورے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس خطے کے امور اور فلسطینی سیاست میں مداخلت کر کے کے انہیں امریکی اور اسرائیلی مقاصد کے تحت بنانا چاہتی ہیں۔

بے چابی قید خانہ
اسرائیل نے غزہ کو بے چابی ’قید خانہ‘ بنا دیا ہے
بحران کے دہانے پر
غزہ انسانی بحران کے دہانے پر ہے: اقوام متحدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد