رائس: صدر عباس کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور مالی بحران کو ٹھیک کرنے میں فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ دونوں لیڈروں نے بدھ کو ہونے والی اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس کی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ خطے میں امن قائم کرنے کے اس ’ٹو سٹیسٹ‘ منصوبے کے حق میں ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینی ایک دوسرے کی خود ارادیت قبول کر کے پر امن طریقے سے ساتھ رہ سکیں۔ کونڈولیزا رائس نے محمود عباس سے کہا کہ’ آپ کو میری، صدر بش کی اور امریکہ کی اس مقصد کے لیئے پوری حمایت حاصل ہے۔‘ انہوں نے غرب اردن اور غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’فلسطینیوں کے حالات بہتر کرنے کے لیئے اپنی کوششیں دوگنی کرے گا۔‘ لیکن امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر فلسطینیوں کی منتخب حماس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کو بدلنا ہی مناصب ہوگا۔ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور وہ اس سے روابط نہیں رکھنا چاہتا۔ امریکہ یورپ اور اسرائیل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں نے فلسطینیوں کے حالات بگاڑ دیے ہیں۔ حماس حکومت کا خزانہ خالی ہے اور سرکاری ملازمین کو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ فلسطینی صدر نے اس موقع پر کہا کہ ان کی حماس کے ساتھ ایک متحد حکومت بنانے پر مذاکارت نا کام ہو گئے ہیں’اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ اور میں کہہ چکا ہوں کہ بات چیت کا عمل ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔ اب ہمیں اچھی طرح سے اس پر غور کرنا ہوگا کہ ہمارا اگلا قدم کیا ہو۔‘ محمود عباس اور ان کی تنظیم فتح پچھلے ایک ماہ سے حماس کے ساتھ قومی حکومت تشکیل کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن بدھ کو صدر نے کہہ دیا کہ یہ کوشش ناکام رہی ہے۔ حماس اور فتح کے کارکنوں کے درمیان حال میں کئی جھرپیں ہوئی ہیں اور ان میں اب تک گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نامہ نگاروں اور سییاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے صدر عباس کی تعریفیں اور حمایت کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر وہ فلسطینیوں کو کچھ نہیں دے سکی ہیں۔ حماس کا موقف ہے کہ وہ کسی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جو کی اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ حماس کے وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ نے کونڈولیزا رائس کے دورے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس خطے کے امور اور فلسطینی سیاست میں مداخلت کر کے کے انہیں امریکی اور اسرائیلی مقاصد کے تحت بنانا چاہتی ہیں۔ |
اسی بارے میں امریکہ کے ’اعتدال پسندوں‘ سے رابطے 04 October, 2006 | آس پاس ’ہم حماس رہنماؤں کو قتل کردیں گے‘03 October, 2006 | آس پاس حماس نے حکومتی دفاتر بند کر دیئے02 October, 2006 | آس پاس غزہ: جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک02 October, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں29 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||