BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم حماس رہنماؤں کو قتل کردیں گے‘
دونوں فریقین تشدد بھڑکانے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں
فلسطین کی سابق حکمراں جماعت الفتح سے منسلک تنظیم الاقصٰی بریگیڈ نے اپنی سیاسی حلیف جماعت حماس کے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔

الاقصٰی بریگیڈ نے کہا ہے کہ وہ دونوں جماعتوں کے درمیان مسلح تصادم کے لیئے حماس کے رہنماؤں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

تنظیم کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہلاک کرنے کے لیئے حماس کے تین رہنماؤں کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے‘۔

دونوں جماعتوں کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں غزہ میں اتوار سے شروع ہوئی تھیں جن میں آٹھ افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے تھے۔ مزید جھڑپوں میں دو افراد پیر کو بھی ہلاک ہوئے تھے۔

حماس کے مارچ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس جھڑپ کو دونوں گروہوں کے درمیان بدترین تصادم خیال کیا جارہا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس اور وزیرِاعظم اسماعیل ہانیہ نے لوگوں سے پر امن رہنے اور فوری طور پر پرتشدد کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔

القصٰی کے بیان میں کہا گیا ہے ’ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم حماس کے سربراہ خالد مشال، سعد صیام اور یوسف الازہر کو قتل کردیں گے تاکہ یہ حکمرانی ختم ہو اور ان کی ہلاکت دوسروں کے لیئے مثال بن سکے‘۔

خالد مشال دمشق میں حماس کے سیاسی سربراہ ہیں، سعد صیام وزیر داخلہ ہیں اور یوسف الازہر وزارت داخلہ کے اعلٰی اہلکار ہیں۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم حماس کے سربراہ خالد مشال، سعد صیام اور یوسف الازہر کو قتل کردیں گے تاکہ یہ حکمرانی ختم ہو اور ان کی ہلاکت دوسروں کے لیئے مثال بن سکے۔
الاقصٰی بریگیڈ

حماس کے قانون ساز مشیر المصری نے الاقصٰی پر ’جلتی پر تیل‘ جھڑکنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تب بھی وہ اپنے موقف میں لچک نہیں آنے دیں گے۔

ان کا یہ بیان الاقصٰی کے مسلح افراد کی کئی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں تنظیم نے غزہ کے کئی سکول زبردستی بند کروادیے اور غزہ کی ایک اہم شاہراہ بلاک کردی۔

تنازع کی بنیاد حماس حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کا تنخواہیں نہ ادا کرنا ہے۔ حکومت کے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ وہ تنخواہیں ادا کرسکے۔

مغربی ممالک نے حماس حکومت کے اقتدار میں انے کے بعد سے فلسطین کی امداد بند کردی ہے۔

سول سرونٹ اور الفتح سے منسلک سکیورٹی اہلکار پوری تنخواہوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ محمود عباس اور اسماعیل ہانیہ بھی اقتدار کے لیئے ’جدوجہد‘ کے تنازع میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ دونوں رہنما متحدہ حکومت بنانے کی کئی ناکام کوششیں کرچکےہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد