ایہود اولمرت کے استعفے کی خواہش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی اکثریت نے پہلی بار ایک سروے میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وزیراعظم ایہود اولمرت مستعفی ہو جائیں۔ ایک خودمختار انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کرائے جانے والے اس جائزہ میں63 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ لبنان کی جنگ کے بعد جس طرح ان پر تنقید کی گئی ہے اس کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ سے علیحدہ ہو جانا چاہیئے اس سروے میں حصہ لینے والوں کی اکثریت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع اور بری فوج کے سربراہ کو بھی مستعفی ہونا چاہیئے۔ سروے کےمطابق لبنان کی جنگ کے دائیں بازو کی لیکود کے رہنما بن یامن نیتان یاہو کی مقبولیت میں یکا یک انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ سروے کو شائع کرنے والے اخبار نے ان نتائج کو سیاسی بھونچال قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹینٹ جنرل ڈین ہالوٹس پہلی بار سرِ عام حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ فوجی دستوں کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی نے فوج کے اندازوں، کارروائیوں اور احکامات میں پائی جانے والی کمزوریوں کو ظاہر کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام معاملات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ |
اسی بارے میں لبنان میں امن فوج بڑھانے کی کوشش23 August, 2006 | آس پاس ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||