اسرائیل نے کلسٹر بم استعمال کیئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے اسرائیل پر لبنان کی جنگ کے آخری دنوں میں بڑی تعداد میں کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے آخری دنوں میں لبنان کے بڑے علاقے پر ایک لاکھ سے زیادہ بم بکھیرے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اسرائیل کی طرف سے نوے فیصد بم جنگ کے آخری بہتر گھنٹوں میں استعمال کیئے گئے جب یہ واضح ہوچکا تھا کہ جنگ بند ہونے والی ہے۔ اقوام متحدہ کے رابط کار ژان ایگلینڈ نے کہا کہ جنگ کے آخری گھنٹوں میں کلسٹر بموں کا استعمال حیران کن اور غیر اخلاقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بموں کو صاف کرنے میں ایک سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
اسرائیل کے مطابق جو ہتھیار اور گولہ بارود جزب اللہ کے خلاف جنگ میں استعمال کیئے گئے وہ بین الاقومی قوانین کے مطابق تھے۔ کلسٹر بم ایک بڑے کنستر کے بنے ہوئے ہوتے ہیں جو پھٹ جاتا ہے اور اس میں موجود بہت سے چھوٹے چھوٹے بم دور دور تک بکھر جاتے ہیں۔ ان کا استعمال خاصہ متنازع رہا ہے کیوں کہ یہ اپنے ہدف سے دور بھی گر سکتے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ ان بموں کی وجہ سے روزانہ شہری ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں اسرائیل سے کوئی وضاحت طلب نہیں کی ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ تمام ہتھیار اور گولہ بارود بین الا قوامی قانون کے تحت استعمال کیئے گئے اور کوئی غیر قانونی ہتھیار استعمال نہیں کیا گیا۔ ژان ایگلینڈ نے کہا کہ جن ملکوں نے اسرائیلی فضائیہ کو کلسٹر بم مہیا کیئے تھے انہیں چاہیئے کہ وہ اب اسرائیل کے ساتھ ان کے بارے میں سنجیدہ مذاکرات کریں۔ |
اسی بارے میں ’جنگ بندی توڑنے والا غدار ہے‘20 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی:عنان20 August, 2006 | آس پاس پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان28 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||