’جنگ بندی توڑنے والا غدار ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے وزیر دفاع الیاس المر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو غدار تصور کیا جائے۔ اپنے بیان میں، جسے حزب اللہ کے لیئے تنبیہ کہا جارہا ہے، وزیر دفاع نے کہا ہے کہ لبنان کی سرزمین سے فائر کیئے جانے والے راکٹ کو اسرائیل کے ساتھ ’تعاون‘ سمجھا جائے گا کیونکہ اسرائیل ایسے موقع کو جوابی حملے کے لیئے استعمال کرلے گا۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خیال میں حزب اللہ فائر بندی کی پابندی کررہی ہے۔ الیاس المر نے کہا ہے کہ لبنان کی سرزمین سے اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کرنے والے عناصر کے ساتھ فوج فیصلہ کن انداز میں نمٹے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیاس مر کے بیان میں دو پیغامات ہیں۔ ایک تو یہ کہ لبنانی حکومت موجودہ سیز فائر کی نزاکت سے پوری طرح سے آگاہ ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ لبنانی حکام فائر بندی کے بارے میں اپنی ذمہ داری کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ ایک ہی روز قبل وادی بقا میں اسرائیلی کمانڈوز کے آپریشن سے علاقے میں سیز فائر کے استحکام کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ دریں اثناء لبنانی وزیر اعظم فواد سینیورا نے دارالحکومت بیروت کے تباہ شدہ نواحی علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے علاقے کی صورتحال دیکھ کر اسرائیلی کارروائی کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو مقامی افراد کے لیئے حمایت کا اظہار خیال کیا جارہا ہے۔ |
اسی بارے میں لبنانی فوجیوں کی تعیناتی شروع17 August, 2006 | آس پاس لبنان کی تباہ حال معیشت کی بحالی16 August, 2006 | آس پاس لبنان میں جنگ بندی پیر سے: عنان13 August, 2006 | آس پاس لبنان: تین روزہ جنگ بندی کی تجویز10 August, 2006 | آس پاس موجودہ قرار داد قبول نہیں: لبنان06 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||