حماس نے حکومتی دفاتر بند کر دیئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی حکومت نے اپنے صدر دفتر پر احتجاجیوں کے حملے کے ایک دن بعد تمام سرکاری دفاتر میں کام بند کر دیا ہے۔ حماس کی قیادت میں کام کرنے والی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعطل برقرار ہے ’کیونکہ حکام کو اغوا بھی کیا گیا ہے‘۔ اس سلسلسے میں جاری کیئے جانے والے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دفاتر کب سے کھلنا شروع ہوں گے اور اس سلسلے میں کیا اقدام کیئے جا رہے ہیں۔ اتوار کو غزہ میں حماس کے حامی کارکنوں اور صدر محمود عباس کے حمایوں کے درمیان تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جھڑپوں میں چار شہری سمیت آٹھ فلسطینی ہلاک اور کم سے کم ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سوموار کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن تاہم ان میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے اتوار کی لڑائی کے بعد لوگوں سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ فلسطینی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ حماس کے مسلح افراد کو غزہ سے جانے اور انتظام واپس ریگولر سیکیورٹی فورس کے حوالے کرنے کے لیئے کہا ہے۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرنے والوں میں وہ سرکاری اہلکار بھی شامل تھے جنہیں حماس کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ جھڑپیں اتوار کو اس وقت شروع ہوئیں جب حماس کے کارکنوں نے پولیس اور سرکاری ملازمین کا ایک مظاہرہ منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق حماس کے کارکنوں نے مظاہرے کے قریب آکر ہوائی فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد ان کارکنوں اور سکیورٹی افواج میں لڑائی شروع ہو گئی۔ سکیورٹی افواج صدر محمود عباس کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ جھڑپ
اس واقعہ کے بعد فتح کے حامیوں نے حماس کے رہنما اور فلسطینی وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ کا رملہ میں دفتر نذر آتش کر دیا۔ یہ لوگ ’جاؤ حماس جاؤ‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ |
اسی بارے میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے: حماس24 September, 2006 | آس پاس غزہ انسانی بحران کے دہانے پر: یو این19 September, 2006 | آس پاس فلسطینی نائب وزیر اعظم رہا27 September, 2006 | آس پاس غزہ پر حملہ، ایک فلسطینی ہلاک01 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||