فلسطینی نائب وزیر اعظم رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے فلسطین کے نائب وزیر اعظم کو چھ ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ انہیں اسرائیلی فوج نے حماس کے خلاف ایک کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا تھا۔ عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتے تک رملہ سے دور رہیں جہاں فلسطینی حکومت کا مرکز ہے۔ حماس کی جانب سے غزہ کے نزدیک ایک اسرائیلی فوجی کو تحویل میں لیئے جانے کے بعد اسرائیل نے حماس کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ناصر الشائر ان سب میں سینیئر ترین سیاستدان ہیں۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا ’ناصر کو گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہیں تو رہا ہونا ہی تھا‘۔ اب بھی حماس کے 30 کارکن اسرائیلی تحویل میں ہیں جن میں سے کچھ پر ’دہشتگرد تنظیم‘ کا رکن ہونے کے الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔ اس سال موسم گرما میں غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے دوران ناصر الشائر کئی مواقع پر گرفتاری سے بچتے رہے۔ یہ آپریشن جون میں اسرائیلی فوجی جیلاد شالت کی گرفتاری کے رد عمل کے طور پر کیا گیا تھا۔ 19 اگست کو اسرائیلی فوجی رملہ کے ایک گھر میں گھسے جہاں ناصر الشائر نے پناہ لے رکھی تھی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ پیر کو عدالت نے حماس کے دیگر 21 ارکان کی رہائی کی درخواست رد کردی۔ ناصر کی اہلیہ ان کی رہائی کے لیئے مسلسل کوشاں تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ نابلس پہنچنے والے ہیں۔ نائب وزیر اعظم ہونے کے علاوہ ناصر حماس حکومت کے تعلیم اور تربیت کے وزیر بھی ہیں۔ غرب اردن میں اسرائیل کی تازہ کارروائی میں بدھ کو اسرائیلی فضائیہ کے ایک حملے میں ایک چودہ سالہ فلسطینی لڑکی ہلاک اور کئی شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کا دعوٰی ہے کہ اس نے اسلحہ کی ایک سرنگ کو نشانہ بنایا تھا۔ |
اسی بارے میں حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس فلسطینی انتخابات کے اہم مسائل05 January, 2006 | آس پاس اسرائیل کو تسلیم کریں گے: عباس19 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||