رائس طبلِِ جنگ نہیں پیانو کے ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا نام لیتے ہی ذہن میں اکثر اعلی سطح ملاقاتیں، سفارت کاری اور اخباری کانفرنسوں کی کوئی تصویر ذہن میں آتی ہے لیکن مس رائس جلد آپ کو پیانو بھی بجاتے دکھائی دیں گی۔ سفارت کاری کے متنازعہ داوُ پیچ ایک طرف کونڈولیزا رائس کو پیانو کا ہنر دکھانے کا موقعہ ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان علاقائی فورم کے اس ہفتے اجلاس میں ملنے کی توقع ہے۔ بعض حلقے اسے عالمی سفارت کاری کا سب سے بڑا خفیہ راز قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس خبر کے آنے کے بعد یہ راز اب خفیہ نہیں رہا۔ اگرچہ چھبیس رکنی آسیان کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے پر مشرق وسطی کا بحران، کوریا کا میزائل مسئلہ اور مینمار کا جمہوریت کو گلے لگانے سے انکار جیسے سنجیدہ اور قدرے ’خشک‘ موضوعات پر غور ہوگا۔ تاہم طویل ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد عشائیے کے دوران دنیا کے اعلی سفارت کار اپنے پروٹوکول کو ایک طرف رکھ کر مزاحیہ خاکے اور موسیقی کے ہنر دکھاتے ہیں۔ ماضی میں اپنا مذاق اڑانے میں امریکی وزراء خارجہ کافی پیش پیش رہے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ کولن پاول اور میڈلین آلبرائیٹ نے بھی اپنی ’خصوصیات‘ کا اظہار اس فورم پر کیا ہے۔ کوالا لمپور کے ایک اخبار کے مطابق مس رائس ایک تجربہ کار پیانسٹ ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ کمپوزر براہمز کی کوئی سنجیدہ دھن پیش کریں گی۔ ایک سفارت کار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ فل الحال ایک دوسرے کو سسپنس میں رکھنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے فن کو آخری وقت تک خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیئے یہ بھی ایک حساس معملہ ہوتا ہے۔ ایسوسیشن آف ساوتھ ایسٹ ایشین نیشنز یعنی آسیان نے اس اجلاس کے دوران ایک اور پرفارمنس کا اہتمام بھی کر رکھا ہے۔ اجلاس میں وزراء فورم کا ترانہ بھی مل کر گائیں گے۔ یہ ترانہ ملائشیا کے وزیر خارجہ سید حامد البر نے تیار کیا ہے۔ اس ترانے کی تیاری کے لیئے ہر وزیر کو ایک سی ڈی فراہم کی گئی ہے تاکہ انہیں اس کی موسیقی سے کم از کم واقفیت ضرور ہو۔ امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا اور کینڈا بھی موسیقی کی معروف دہنیں سنانے میں نام رکھتے ہیں۔ منگل کے روز آسیان کے دس وزارء نے ایک بیان میں مشرق وسطی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کو بےجا قرار دیا۔ آسیان میں دس ایشیائی ممالک شامل ہیں تاہم اس کے علاقائی فورم میں ان کی تعداد بڑھ کر پچیس ہوجاتی ہے۔ یورپی یونین ان کے علاوہ ہے۔ | اسی بارے میں شام لبنان سے باز رہے: امریکہ 16 February, 2005 | صفحۂ اول ’خطرے سے آگاہ تھے‘08 April, 2004 | صفحۂ اول اقوام متحدہ کو امریکی انتباہ17.02.2003 | صفحۂ اول ’دانستہ جھوٹ نہیں بولا‘11.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||