BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خطرے سے آگاہ تھے‘
News image
کونڈالیزا رائس گیارہ ستمبر کے حملوں سے متعلق کمیشن کے سامنے بیان دے رہی ہیں
امورِ سلامتی کی صدر بش کی مشیر کونڈولیزا رائس نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکی شہروں پر ہونے والے خودکش حملے سے متعلق کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بش کو القاعدہ کے حملے کے خطرے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر بش خطرے کی نزاکت اور اس کی اہمیت سمجھتے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا: ’صدر نے واضح طور پر ہمیں بتا دیا تھا کہ وہ القاعدہ کے خلاف جزوی کارروائی یا ایک وقت میں ایک حملہ نہیں کرنا چاہتے۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی کوئی چاندی کی گولی نہیں تھی جس سے نیو یارک اور واشنگٹن کے تباہ کن حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ واضح ہے کہ امریکہ اس وقت حالتِ جنگ میں نہیں تھا۔

مس رائس نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا لیکن اس میں بڑی گھمبیر قانونی رکاوٹیں تھیں۔

اندرونی سلامتی کے محکمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے لئے ہم نے اس کے بعد سے کئی تبدیلیاں کی ہیں۔

مس رائس نے کہا کہ گیارہ ستمبر سے پہلے انٹیلیجنس وارننگ آئی تھیں لیکن ان میں سے اکثر بیرون ملک سے متعلق تھیں۔

ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’آنے والے ہفتوں میں ایک ناقابلِ یقین خبر آنے والی ہے‘۔ جبکہ ایک اور میں کہا گیا ’بڑا واقعہ، بہت بڑا واقعہ ہو گا، بڑا شور مچے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹیں بڑی مایوس کن حد تک مبہم تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ’پریشان کن ہے، لیکن وہ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ کون، کب اور کہاں اور وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ کس طرح‘۔

ان کے بیان کے اہم نکات یہ ہیں:

٭ خفیہ اداروں کی معلومات کے مطابق القاعدہ تقریباً بیس سال سے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی رہی ہے تاہم امریکہ نے اس خطرے کو محسوس کرنے کے باوجود اس کو ختم کرنے کا عمل گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک میں ہونے والی تباہی کے بعد ہی شروع کیا۔

٭ القاعدہ کی تشکیل اور تنظیم کی ذمہ داری افغانستان اور پاکستان پر عائد ہوتی ہے، اور افغانستان کی طالبان حکومت کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر القاعدہ نے امریکہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

٭ بش انتظامیہ کو القاعدہ کی جانب سے ممکنہ خطرات کا علم تھا، اور ان سے نمٹنے کے لئے تمام اقدامات کئے گئے تھے۔

٭ گیارہ ستمبر سے پہلے حاصل شدہ خفیہ معلومات میں کسی خاص منصوبے کا ذکر نہیں تھا، نہ ہی حملے کے وقت یا مقام کی نشاندہی کی گئی تھی اور اسی لئے نیو یارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کی روک تھام نہیں کی جا سکی۔

٭ گیارہ ستمبر کے بعد حکومت کے پاس دو راستے تھے۔ پہلا اور آسان راستہ یہ تھا کہ اس حملے کے براہ راست ذمہ داروں کو سزا دلائی جائے، اور دوسرا اور مشکل تر راستہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں پھیلے دہشت گردی کے جال کو توڑا جائے۔ صدر بش نے بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

٭ افغانستان اور عراق میں بقول ان کے ظالمانہ حکومتیں گرنے کے بعد دہشت گرد تنظیموں کی دنیا مزید سکڑ گئی ہے اور لیبیا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی جستجو ترک کرنا امریکی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

اس کے بعد کونڈولیزا رائس نے کمیشن کے اراکین کے سوالوں کے جواب دینا شروع کیے اور یہ سلسلہ تقریباً دو گھنٹے بعد بھی جاری رہا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے فوراً بعد ایک موقع پر عراق پر حملے کے امکان پر بات ہوئی تھی اور اس کے محرک وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ اور ان کے نائب پال ولفووٹز تھے۔ تاہم کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ صدر بش کے بعض سینئر رفقاء میں سے کسی نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد