عراقی حکومت سے کوتاہی ہوئی: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی کوتاہی سے صدام کی پھانسی ایک انتقامی ہلاکت نظر آنے لگی ہے۔ امریکی پبلک ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں صدر بش نے کہا کہ صدام حسین کی پھانسی کے طریقہ کار نے ان کے لیے امریکی عوام کو اس بات پر قائل کرنا مشکل بنا دیا ہے کہ عراق میں ایک سنجیدہ حکومت ہے جو ملک کو متحد رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے اور استحکام کے لیے مزید بیس ہزار فوج بھیجنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو عراق میں جاری تشدد پر اب قابو پانا ہے، ورنہ تشدد کا یہ سلسلہ کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔ صدر بش نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب منگل کے روز بغداد میں مستنصریہ یونیورسٹی میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ صدر بش نے تسلیم کیا کہ امریکہ میں کئی حلقے بڑی حد تک جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں واشنگٹن میں اپنے منصوبوں کے سلسلے میں ہر طرف سے قنوطیت اور شک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے کئی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان مزید فوج عراق بھیجنے کے خلاف ہیں۔ | اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی انتقامی عمل نہیں تھا‘31 December, 2006 | آس پاس کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی کی ایک اور ویڈیو09 January, 2007 | آس پاس صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی15 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||