صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت معزول عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ موت کی سزا پانے والے ان کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی اور اس دور کی ’انقلابی عدالت‘ کے سربراہ عود البندر کو بھی پھانسی دے دی گئی ہے۔ عراقی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق دونوں کو پھانسی دیئے جانے کے دوران اگرچہ کوئی پر تشدد کارروائی نہیں ہوئی، لیکن برزان تکریتی کا سر تن سے جدا ہو گیا تھا۔ ’ایسا کم ہی ہوتا ہے لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں‘۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں کو اسی جگہ پھانسی دی گئی جہاں تیس دسمبر کے روز صدام حسین کو پھانسی دی گئی تھی۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی حکومت سے تعلق رکھنے والے استغاثہ کے سب سے بڑے وکیل منقط الفارون کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں کو طلوعِ آفتاب سے پہلے پھانسی چڑھایاگیا۔
صدام حسین کو جن حالات میں پھانسی دی گئی ان کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عراق کے صدر جلال طالبانی نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کے دو ساتھیوں کو پھانسی دینے کے حکم پر عمل درآمد کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عراقی صدر مجرموں کی سزا کو بدلنے یا ان میں تاخیر کا اختیار نہیں رکھتے۔ صدا م حسین کی متنازعہ پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر طالبانی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات پھانسی کی سزا کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ لیکن عراقی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجرموں کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط ہو چکے تھے اور اب اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تاہم اس دفعہ پھانسی دیئے جانے کے موقع پر موجود تمام لوگوں نے بہتر طرز عمل اختیار کرنے کا حلف دیا ہوا تھا۔ | اسی بارے میں ’پھانسی نے صدام کو شہید بنا دیا‘05 January, 2007 | آس پاس پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس صدام کیخلاف الزام خارج08 January, 2007 | آس پاس صدام کی موت سے خلیج گہری ہوگئی08 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||