صدام کیخلاف الزام خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں کردوں کے قتلِ عام کے مقدمے کی سماعت ددوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ مقدمے کے ایک ملزم اور سابق عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی کے بعد عدالت نے ان پر عائد تمام الزامات خارج کر دیے ہیں اور اب اس قتلِ عام کے معاملے میں چھ عراقی افسروں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ پہلے پہل اس مقدمے میں صدام اور ان کے ساتھیوں کو 1980 میں ایک لاکھ عراقی کردوں کے قتلِ عام کا ملزم نامزد کیا گیا تھا تاہم اب دجیل میں 148 شیعوں کی ہلاکت کے مقدمے میں صدام کو سزائے موت کے بعد ان کا نام اس مقمدے سے نکال دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران صدام حسین کے رشتہ دار علی حسن الماجد سمیت چھ ملزمان نے جنگی جرائم، انسانیت سوز مظالم اور قتلِ عام کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ کرد علاقے میں کی جانے والی کارروائی بغاوت کچلنے کی ایک قانونی کوشش تھی کیونکہ ایران عراق جنگ کے دوران کچھ کردوں نے دشمنوں سےگٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ صدام حسین کے ساتھیوں کے خلاف اس مقدمے کے سماعت اکیس دسمبر کے بعد پہلی مرتبہ کی جا رہی ہے۔ اور اس کے دوبارہ آغاز سے ایک متربہ پھر عالمی توجہ عراق کے عدالتی نظام پر مرکوز ہوگئی ہے جسے پہلے ہی صدام حسین کی پھانسی کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات پر تنقید کا سامنا ہے۔ صدام حسین کو ان کے پھانسی کے عمل کے دوران طعنے دیےگئے تھے جس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر پیش کی گئی تھی۔ معزول عراقی صدر کی پھانسی کے بعد اقوامِ متحد ہ کی جانب سے ان کے دیگر ساتھیوں کو پھانسی نہ دینے کی اپیل بھی کی گئی تھی جسے عراقی حکومت نے رد کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں طعنہ زنی ’مکمل طور پر غلط تھی‘07 January, 2007 | آس پاس ’پھانسیاں اسی ہفتے ہوں گی‘07 January, 2007 | آس پاس پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس ’پھانسی نے صدام کو شہید بنا دیا‘05 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||