BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 00:02 GMT 05:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پالیسی کو ایک موقع دیں: بش
صدر بش کی تقریر کے جواب میں ڈیموکریٹ سینیٹر نے کہا کہ امریکی عوام اور فوج عراق جنگ کے طریقۂ کار کی حمایت نہیں کرتے
امریکی صدر جارج بش نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں عوام سے کہا ہے کہ ان کی بیس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی عراق بھیجنے کی نئی حکمتِ عملی کو کامیابی کے لیے ایک موقع دیں۔

اپنے خطاب میں صدر بش نے خبردار کیا کہ عراق میں ناکامی نہایت تکلیف دہ ہوگی اور اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

صدر بش کے خطاب کے فوراً بعد جوابی تقریر میں ڈیموکریٹ سینیٹر جم ویب نے کہا کہ امریکی عوام اور فوج کی اکثریت اس طریقۂ کار کی حمایت نہیں کرتی جس کے تحت امریکہ عراق میں جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہ اس وقت سمت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ہر تین افراد میں سے صرف ایک صدر بش کے کام سے مطمئن ہے۔ یوں صدر بش گزشتہ پچاس برسوں میں رچڑڈ نکسن کے بعد دوسرےغیر مقبول ترین صدر ہیں۔

اپنے خطاب میں صدر بش نے کہا کہ امریکہ ابھی تک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور اس کے حامی سنی انتہا پسند ہیں جن کے دلوں میں نفرت ہے اور جو تنگ نظر ہیں۔

صدر بش کے مطابق امریکہ عرصۂ دراز سے تیل کے لیے دوسروں پر انحصار کرتا آیا ہے

’انتہا پسند سنی اسلامی ریڈیکل تحریک میں ایک کیمپ کا درجہ رکھتے ہیں۔ امریکہ کو شیعہ انتہا پسندوں کی طرف سے بھی خطرہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایران سے ہدایات لیتے ہیں جن میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔ شیعہ اور سنی انتہا پسند مطلق العنانیت کی دھمکی کے مختلف روپ ہیں۔‘

سٹیٹ آف یونین خطاب میں جو صدر بش کا ساتواں خطاب ہے، صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو کسی قیمت پر بھی عراق میں ناکام نہیں ہونا چاہیے۔

صدر بش نے عراق میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کے بارے میں کہا کہ اگر بغداد کے محفوظ ہونے سے قبل امریکی فوجیں باہر نکل آئیں تو عراقی حکومت کوانتہا پسند تاراج کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں بیس ہزار کے قریب مزید امریکی فوج بھیجنے کی ان کی پالیسی کو موقع دیا جائے۔

صدر بش نے امریکہ کے داخلی مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریفوں سے کہا کہ ملک کے انتہائی اہم مسائل کے حل کے لیے وہ ان کا ساتھ دیں۔

صدر بش کے ایجنڈے کا ایک اہم ترین نکتہ توانائی کی پالیسی تھا جس میں امریکی صدر نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے دو ہزار سترہ تک پیٹرول کے استعمال پر بیس فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے دو ہزار سترہ تک پیٹرول کے استعمال پر بیس فیصد کمی ہو سکتی ہے
انہوں نے کہا کہ امریکہ عرصۂ دراز سے تیل کے لیے دوسروں پر انحصار کرتا آیا ہے جس کی وجہ سے اسے ظالم حکومتوں اور دہشت گردوں سے خطرہ رہتا ہے جو تیل کی ترسیل میں بہت زیادہ خرابی کر سکتے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں اور امریکی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

صدر بش نے کہا کہ وہ کانگریس سے کہیں گے کہ اگلے عشرے میں توانائی کے متبادل تلاش کرنے کی تحقیق کو فنڈ کرنے کے لیے ایک اعشاریہ چھ بلین ڈالر درکار ہوں گے۔ تاہم صدر بش نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی کوئی خاص حد مقرر نہیں کی۔

امریکی صدر نے کانگریس سے کہا کہ وہ امیگریشن اصلاحات کے ایک جامع بل کو منظور کرے۔ ’ہم اس وقت تک اپنی سرحدوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے جب تک سرحدوں سے دباؤ ختم نہیں ہوگا اور اس کے لیے عارضی ورک پروگرام کی ضرورت ہے۔‘

صدر بش نے ان مشکلات کا ذکر بھی کیا جو تقریباً سینتالیس ملین امریکیوں کو صحت کے حوالے سے درپیش ہیں۔

عزیز بش ملاقات
’عراقی عوام کو مسائل خود حل کرنے ہوں گے‘
بساطامریکہ، صدام، عراق
بساطِ سیاست: خبروں، تجزیوں کا مجموعہ
امریکی فوجیعراق پالیسی اور ووٹر
کیا صدر بُش مزید امریکی فوجی بھیجیں گے؟
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے
08 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد