شناختی کارڈ، قومی اسمبلی میں بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی جانب سے آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کے معاملے پر جمعرات کو قومی اسمبلی میں غیر رسمی بحث ہوئی جس میں حکومتی جماعت سمیت متعدد ارکان نے یہ شرط دوبارہ لاگو کرنے کے لئے نئی قانون سازی کا مطابہ کیا۔ تاہم سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے نصف گھنٹے سے زائد وقت تک نکتۂ اعتراض پر مختلف ارکان کی رائے لینے کے بعد اپنی رولنگ میں کہا کہ ایوان کے بیشتر ارکان اس نکتے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس سنگین مسئلے کی جامع تحقیق کے بعد کوئی فیصلہ کرے۔ لیکن سپیکر نے کہا کہ ووٹوں کے اندراج کا معاملہ چونکہ عدالت میں زیر سماعت ہے، لہذا اس پر وہ مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔ نکتہ اعتراض پر یہ معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے متحد مجلس عمل کے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ووٹ کے اندراج اور اسکے استعمال کے وقت شناختی کارڈ دکھانا ضروری نہیں ہے بلکہ کوئی بھی شناختی دستاویز دکھا کر ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔
کراچی سے ایم ایم اے ہی کے محمد حسین محنتی نے کہا کہ شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت سے دھاندلی کا باب کھل جائے گا جسے روکنے کے لئے اگر ضروری ہے تو یہ ایوان قانون سازی کرے تاکہ عدالت کے اعتراضات دور کر کے کارڈ کی پابندی برقرار رکھی جا سکے۔ ایم ایم اے کے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی گئی تو ووٹنگ والے دن ملک میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک نے کہا کہ کوئی ایسا طریقۂ کار ضرور ہونا چاہیئے کہ پولنگ کے روز دھاندلی سے بچا جا سکے اور اگر اسکے لئے نئی قانون سازی کی ضرورت ہو تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیئے۔ حزب اختلاف کی اس جماعت کی طرف سے انہوں نے ایوان کی کمیٹی بنانے کی تجویز کی حمایت کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے کہا کہ اگر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز بن جائیں تو پولنگ میں دھاندلی کے اسی فیصد امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا ہمارے لئے لازم ہے لیکن شناختی کارڈ ملک میں شفاف انتخابات کے لئے ضروری ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے عبدالقادر خانزادہ نے کہا کہ ووٹ کے لئے شناختی کارڈ قطعاً ضروری نہیں ہے اور کوئی بھی شناختی دستاویز کو کافی ہونا چاہیئے اور اس ایوان کی کمیٹی، جو اس معاملے پر غور کرے، وہ بھی اتنی ہی غیرضروری ہو گی۔ سپیکر نے اس موضوع پر کئی دوسرے ارکان کی بھی رائے سنی جن میں سے بیشتر نے یہی کہا کہ سپیکر چوہدری امیر حسین کی سربراہی میں ایوان کی کمیٹی بنا دی جائے تاکہ وہ اس اہم معاملے پر کوئی فیصلہ کر سکے۔ بحث کے اختتام پر اپنی رولنگ دیتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ ایوان کی اکثریت کی رائے تو یہی ہے کہ ایوان کی کمیٹی بنا دی جائے لیکن معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہونے کے باعث وہ اس پر مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ |
اسی بارے میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ضروری نہیں01 August, 2007 | پاکستان ’نظرِ ثانی شدہ ووٹر لسٹیں 30 دن میں‘10 August, 2007 | پاکستان تیس دن میں ہرووٹر کا اندراج یقینی11 August, 2007 | پاکستان ’ووٹروں کے اندراج کی مہلت کم ہے‘ 13 August, 2007 | پاکستان 2002 الیکشن، دو کروڑ ’بوگس‘ ووٹر05 June, 2007 | پاکستان ’صرف غائب شدہ ووٹرز کا پتہ کریں‘16 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||