BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیس دن میں ہرووٹر کا اندراج یقینی

الیکشن کمیشن کا لوگو
آئینی درخواست میں ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر تین کروڑ ووٹروں کے اخراج کو چیلنج کیا گیا تھا
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات کی ورشنی میں تیس دن کے اندر اندر انتخابی فہرستوں میں ان افراد کے ناموں کا اندراج یقینی بنائے گا جن کے نام ووٹر لسٹوں میں نہیں ہیں۔

سنیچر کو پٹیشنر بےنظیر بھٹو کے وکلاء اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم سےگفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سولہ اگست کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کو ان ووٹروں کے اندراج کےلیے الیکشن کمیشن کے طریقہء کار کے بارے میں آگاہ کرے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز بےنظیر بھٹو کی آئینی درخواست پر الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ تیس دنوں میں ان افراد کے ووٹوں کا اندراج یقینی بنائے جو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی شرط کی وجہ سے درج ہونے سے رہ گئے تھے۔

اس آئینی درخواست میں ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر تین کروڑ ووٹروں کے اخراج کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سنیٹر لطیف کھوسہ جو ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی کے وفد کی نمائندگی کر رہے تھے انہوں نے تجویز دی کہ ووٹر لسٹوں میں رہ جانے والے افراد کے اندراج کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے۔

کیونکہ پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل سمیت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی دیگر سیاسی جماعتوں نے یہ اعتراضات اٹھائے تھے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کی جانے والی ابتدائی ووٹر لسٹوں میں ان کے لاکھوں حمایتی ووٹروں کے نام نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ جعلی ووٹ ڈالنے کے جرم کو قابل تعزیر جرم بنایا جائے۔

احمد بلال محبوب جو ایک غیر سرکاری تنظیم PILDAT کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور وہ اس ملاقات میں موجود تھے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تیار ہونے والی ابتدائی ووٹر لسٹوں میں دو کروڑ بیس لاکھ افراد کے نام درج ہیں جبکہ چھ اگست تک نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) نے 5 کروڑ 60 لاکھ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی ووٹر لسٹیں تیار کرنے کے لیے نادرہ کے پاس موجود ریکارڈ سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس طرح تین کروڑ چالیس لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

احمد بلال نے کہا کہ انہوں نے ملاقات میں چیف الیکشن کمیشن کو تجویز دی کہ وہ نادرہ کے حکام کو ہدایت کریں کہ وہ شناختی کارڈ جاری کرنے کی رفتار کو بڑھائیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ملاقات میں یقین دہانی کروائی کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کر گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد