عبوری کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستیں عبوری طور پر تیار کر لی گئی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں سال اگست تک الیکشن کمیشن نئی فہرستوں کو حتمی شکل دے گا اور اس کے بعد کسی بھی وقت ملک میں عام انتخابات کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی امداد سے پچپن کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ عبوری کمپیوٹرائزڈ فہرستیں پاکستان کے ایک سو گیارہ اضلاع اور سات قبائلی ایجنسیوں میں قائم کردہ پینتالیس ہزار سے زائد ’ڈسپلے سینٹرز‘ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔ کنور دلشاد نے کہا کہ یہ بھی پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ’ڈسپلے سینٹرز‘ قائم کیے گئے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے اس طرح کے پانچ، چھ ہزار مراکز قائم ہوتے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس فرد، جماعت یا گروہ کو کسی نام پر اعتراض ہے تو وہ متعلقہ مرکز جا کر اعتراض کرسکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ فہرستیں جدید ترین طریقۂ کار کے تحت مکمل ڈیٹا کے ساتھ تیار کی گئی ہیں اور اب کسی کے لیے بھی جعلی ووٹ دینا ممکن نہیں ہوگا۔ ادھر پاکستان الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ستاسی ہزار کے قریب اندراج کنندگاں، انتیس ہزار سپروائزر اور سوا دو سو کے قریب معاونین اور ایک سو پینتالیس رجسٹریشن افسران نے کمپیوٹرائزڈ فہرستیں تیار کیں۔ بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے چاروں صوبوں کے چیف جسٹسز کی مشاورت سے ساڑھے نو سو عدالتی افسران کو ووٹر فہرستوں پر اعتراضات نمٹانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن نے چیف جسٹسز سے درخواست کی ہے کہ فہرستوں پر اعتراضات نمٹانے والے نامزد افسران کا کام مکمل ہونے تک تبادلہ نہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’از سر نو حلقہ بندیاں کی جائیں‘06 March, 2007 | پاکستان لاکھوں افراد ووٹر لسٹ سے خارج05 January, 2007 | پاکستان انتخابات: ووٹروں کا اندارج شروع 29 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||