BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاکھوں افراد ووٹر لسٹ سے خارج

ووٹر
ملک میں سوا دو کروڑ افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے
پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی پینتیس غیرسرکاری تنظیموں نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات کے لیے جس طریقے سے ووٹر فہرستیں تیار کی جارہی ہیں اس سے سوا دو کروڑ سے زیادہ افراد حق رائے دہی سےمحروم ہو جائیں گے۔

چاروں صوبوں میں کام کرنے والی پینتیس مختلف غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کے نام سے ایک مشترکہ تنظیم بنائی ہے جس کا مقصد منصفانہ انتخابات کے لیے شہریوں کی مدد سے انتخابی عمل کی نگرانی کرنا ہے۔

جمعہ کو لاہور میں غیرسرکاری تنظیم فافین کے اجلاس کے بعد اس کے سیکرٹری جنرل سرور باری نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریبًا سوا دو کروڑ افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے جس سے ان کا نام ووٹر لسٹوں میں درج نہیں کیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں میں نام کے اندراج کے لیے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ پیش کرنا لازمی شرط بنا دیا ہے۔

فافین کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نئے سرے سے ووٹر فہرستیں بنا رہا ہے جو توقع ہے کہ اگلے چند ماہ میں عوام کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کے اندراج کے لیے جو فارم تقسیم کیے تھے ان میں سے پچیس فیصد سے زیادہ فارم اسے واپس نہیں مل سکے۔ یوں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس وجہ سے بھی ووٹر کے طور پر درج نہیں ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے بہت سے سیاسی رہنماؤں نے شکایت کی ہے کہ ان کے حلقوں میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرسرکاری تنظیموں کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن ووٹر فہرستیں بنانے کے لیے نئے سرے سے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے بجائے شناختی کارڈ بنانے والے قومی ادارہ نادرا کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ووٹر فہرستیں بناتا تو زیادہ تعداد میں ووٹروں کا اندراج ہوسکتا تھا۔

غیرسرکاری تنظیموں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں کو انٹرنیٹ پر فراہم کرے تاکہ لوگ انہیں جب چاہیں دیکھ سکیں اور ان تک رسائی حاصل کرسکیں۔

 پاکستان میں اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے نتیجہ میں جنم لینے والی موجودہ پارلیمینٹ کی مدت اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ختم ہوجائے گی۔ اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع میں عام انتخابات کا انعقاد متوقع ہے۔

فافین کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ملک میں اگلے عام انتخابات منصفانہ کرانے کے لیے تمام انتخابی حلقوں کے پولنگ سٹیشنوں کی سکیم کو بھی الیکشن سے ایک مہینہ پہلے حتمی شکل دے اور انہیں انٹرنیٹ پر فراہم کرے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں ایک دن پہلے تک پولنگ سٹیشن تبدیل کیے جاتے رہے جس سے دھاندلی کا تاثر پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں الیکشن کمیشن کے اختیارات لگ بھگ ایک ہی جیسے ہیں لیکن پاکستان میں الیکشن کمیشن ان اختیارات کو استعمال نہیں کرتا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور اپنے اختیارات استعمال کرے۔

پینتیس غیرسرکاری تنظیموں کے نیٹ ورک (فافین) کا موقف تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے حکمران جماعت مسلم لیگ اور روشن خیال اور اعتدال پسند افراد کے حق میں مسلسل مہم چلا کر یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں ریاستی مشینری غیرجانبدار نہیں ہوگی۔

غیرسرکاری تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن صدر مشرف کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

پاکستان میں اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے نتیجہ میں جنم لینے والی موجودہ پارلیمنٹ کی مدت اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ختم ہوجائے گی۔ اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع میں عام انتخابات کا انعقاد متوقع ہے۔

اسی بارے میں
مشرف کی آئینی مشکلات
01 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد